بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

طلباء سے مالی جرمانہ لینا


سوال

اسکول میں طالب علم   سے غیر حاضری پر  جو مالی جرمانہ لیا جاتا ہے  اس کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تعزیر بالمال(مالی جرمانہ) کے بارے میں فقہائے کرام کے اقوال مختلف ہے ۔اکثر فقہائے احناف اس  کے   عدم جواز کے قائل ہیں، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے  اس کا جواز  منقول ہے،اور  موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے  بعض  انتظامی   امور کی خلاف ورزی پر مالی جرمانہ مقرر کرنے کی گنجائش ہے،لیکن اس بات کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے  کہ  مال  جرمانے کی مد میں لی ہوئی رقم اپنے پاس محفوظ رکھی جائے اور اصلاح   ہو جانے کے بعداسے واپس کیا جائے ،تاہم اگر غلطی کرنے والا شخص اپنی غلطی پر اصرار کرتا رہےاورجرمانہ وصولی کے بعددوبارہ واپس کرنے سے  مجرم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہوتو اس رقم کو مفاد عامہ میں استعمال کرنا بھی جائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اسکول میں طالب علم کی غیر حاضری پر جو مالی جرمانہ لیا جاتا ہےاگر طالب علم دوبارہ غیر حاضری  نہ کرے تو  اسکول انتظامیہ کو چاہیئے  کہ طالب علم کو جرمانہ   واپس کر دیں ،البتہ اگر طالب علم بار بار غیر حاضری  کرتا رہے  تو اس جرمانے کو واپس کرنے کی بجائے  طلباء کےعمومی مصالح میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

 

وأفاد ‌في ‌البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى.(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الحدود،باب التعزیر،ج: 6،ص:106)

‌ يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ‌ومن ‌قال: ‌إن ‌العقوبة ‌المالية ‌منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ۔ولا إجماع يصحح دعواهم.(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،  ص195: ، دارالفكر بِيروت لبنان)


فتویٰ نمبر : 5669/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں