بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

"قرآن کا حفظ ہوجانا اللہ کا معجزہ ہے"کہنے کا حکم


سوال

"قرآن پاک کا حفظ ہو جانا اللہ کا معجزہ ہے "کیا ایسا کہنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایسے  خلاف ِ عادت کام جس کو حق تعالیٰ اپنے کسی نبی کے ہاتھ پر اس کی تائید کے لیے کسی سبب ِ طبعی کے واسطے کے بغیر  ظاہر  فرمائے اصطلاح میں  معجزہ کہلاتا ہے۔

معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل  ہوتا ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ  ہی تمام افعال کا خالق ہے ،بندہ   صرف کاسب ہے ۔نیزعرف میں کسی فعل کی نسبت  جس طرح مباشر کی طرف ہوتی ہے اسی طرح مسبب کی طرف بھی  ہوتی    ہے ۔ قرآن  کریم کے حفظ  کرنے میں  مباشراگرچہ بندہ ہے لیکن  مسبب  الاسباب اللہ تعالیٰ کی ذات  ہے،لہذا  صورت مسؤلہ کے مطابق قرآن کے حفظ  ہوجانے کو اللہ کا معجزہ   کہا جاسکتا ہے۔

 

قال :المبحث الثاني،المعجزة:أمر خارق للعادة مقرون بالتحدي وعدم المعارضة، وقيل أمر قصد به إظهار صدق من ادعى النبوة والرسالة، وزاد بعضهم قيد موافقة الدعوى.(شرح المقاصد،المقصدالسادس في السمعيات،فصل في النبوّة،ج:3،ص:273)

إلا أنه يُسامَحُ في العرف، فيسندُ ‌الفعل ‌إلى ‌المسبِّب، كالمُبَاشر.(فيض الباري على صحيح البخاري، ج:3 ص:142)

ثم إعلموا أن للمعجزة لها أوصاف تتعين الإحاطة بها .منها:أن تكون فعلا لله تعالى.( الإرشاد إالى قواطع الأدلة في أصول الإعتقاد، ص:308)

المبحث الأول: فعل العبد واقع بقدرة الله تعالى، وإنما للعبد الكسب.(شرح المقاصد، ج:3، ص:163(


فتویٰ نمبر : 5686/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں