بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غير مملوك چیز کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

ایک شخص دوسرے سے انجن آئل خریدتا ہے جب کہ فروخت کنندہ کے پاس انجن آئل موجود نہیں ہوتا، البتہ عاقدین پہلے سے یہ طے کرلیتے ہیں کہ ایک لیٹر کی قیمت اتنی ہوگی، جس پر دونوں راضی ہوجاتے ہیں چاہے عام مارکیٹ ریٹ سے کم ہو یا زیادہ۔ نیز فروخت کنندہ پیسوں کو ایڈوانس میں وصول کرلیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی خرید وفروخت شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

خرید وفروخت کے معاملات میں شرعا یہ بات ضروری ہے کہ عقد کے وقت مبیع (جو چیز فروخت کی جارہی ہو) بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت میں موجود ہو۔ اگردوران عقد مبیع بائع کی ملکیت میں نہ ہوتو ایسا عقد شرعا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر دوران عقد انجن آئل فروخت کنندہ کی ملکیت میں نہ ہو، تو خرید وفروخت کا یہ معاملہ شرعا جائز نہیں۔ البتہ جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ عاقدین خرید وفروخت کا باقاعدہ معاملہ طے کرنے کی بجائے  وعدہ بیع کریں ،یعنی فروخت کرنے والا یوں کہے کہ جب انجن آئل میرے پاس آجائے تو پھر میں تم پراتنے میں فروخت کروں گا، اور پھر جب وہ ملکیت میں آجائے تو دونوں عاقدین مستقل طور پر  ایجاب وقبول کرکے  خرید وفروخت کا معاملہ طے کریں ،  اس طرح کرنا  جائز ہوگا۔

 

عن حكيم بن حزام، قال: قلت: يا رسول الله، الرجل يطلب مني البيع وليس عندي أفأبيعه له؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تبع ما ليس عندك ". (السنن الكبرى للبيهقي، ج:5، ص:438، الرقم: 10422، دار الكتب العلمية، بيروت)

قال رحمه الله (لا ينعقد بلفظين. أحدهما الماضي، والآخر بلفظ المستقبل) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة. (العناية شرح الهداية، ج:6، ص:249، 250، دار الفكر، بيروت)

أما النهي عن ‌بيع ‌ما ‌ليس ‌عندك فالمراد منه ما ليس في الملك اتفاقا. (فتح القدير على الهداية، ج:6، ص:336، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 3430/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں