بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

وارث كے ليے وصيت كرنا


سوال

ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی   میں دو ایکڑ زرعی زمین اور لاہور کا پندرہ مرلےکے پلاٹ  کی  ہمارے ایک بھائی کے لیے وصیت کی  ۔اب سوال یہ ہے کہ  والد صاحب نے  جو وصیت فرمائی اس کی شرعاًکیا حیثیت ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شرعا کسی شخص کا اپنے ورثا کیلئے وصیت کرنا جائز نہیں،اس لیے کہ شریعت نے ہر وارث کا حصہ متعین کیا ہےجو مرنے والے کی موت کے بعد اس کے زندہ ورثا کو دیا جاتا ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں  اگر سائل کے والدنے اپنی زندگی میں ایک     بیٹے کے لیے  وصیت کی ہو تو یہ وصیت چونکہ  وارث  کے لیے ہے اس لیے یہ نافذ نہ ہوگی ۔تاہم اگر دیگر بالغ ورثا  اس وصیت کے نفاذ پر راضی ہوں  تو اس کو نافذکیا جائے گا ۔

 

عن عمرو بن خارجة أن النبي صلى الله عليه و سلم خطبهم وهو على راحلته.وإن راحلته لتقصع بجرتها.وإن لغامها ليسيل بين كتفي قال:إن الله قسم لكل وارث نصيبه من الميراث.فلا يجوز لوارث وصية.(سنن ابن ماجه ،باب لاوصية لوارث ،ج2ص905)

‌ثم ‌تصح ‌الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته...ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.(الفتاوى الهندية، كتاب الوصايا الباب الأول في تفسير الوصية وشرط جوازها وحكمها،ج:6،ص:90)


فتویٰ نمبر : 3524/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں