بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

میسج کے ذریعے طلاق دینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو میسج میں "میں تمہیں طلاق نامہ بھیجتا ہوں کہ میں فلان  اپنے ہوش وحواس  میں  آج  فلان  تاریخ کو   تمہیں   طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں " لکھ کر بھیج دے ، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے،طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟

جواب

کتابت دو  طرح کی ہوتی ہے ،ایک وہ جس کو مستقل عنوان دیا گیا ہو،جسے مرسوم کہتے ہیں ۔دوسرا جس کو مستقل عنوان نہ دیا گیا ہو ،جسے غیر مرسوم کہتے ہیں ۔غیر مرسوم کی دو قسمیں ہیں:پہلی یہ کہ  جو کسی ایسی چیز پر لکھی جائے جس کو پڑھا اور سمجھا جاسکے ،جیسے تختی ،بورڈ وغیرہ پر لکھنا ،اس کو مستبین کہتے ہیں ۔دوسرا یہ ہے کہ ایسی چیز پر لکھی جائے کہ جس کو نہ پڑھا جاسکے اور نہ سمجھا جاسکے ،جیسے ہوا میں لکھنا یا پانی پر لکھنا ،اس کو غیر مستبین کہتے ہیں۔

تحریری طلاق  اگر مرسوم ہو تواس سے  طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اگر غیر مرسوم ہو تو غیر مستبین ہونے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی  اور مستبین ہونے کی صورت میں نیت کو اعتبار ہوگا  ،اگر طلاق کی نیت ہو توواقع  ہوجائے گی  اور اگر نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسؤلہ   میں جس شخص  نے اپنی بیوی کومیسج میں  یہ الفاظ لکھ کر بھیجے کہ "میں تمہیں طلاق نامہ بھیجتا ہوں کہ میں فلان اپنے ہوش وحواس میں فلان تاریخ  کو تمہیں  طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں " چونکہ یہ کتابت مرسومہ ہے،لہذااس سے   تین طلاقیں واقع ہوئیں اور بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے۔

 

(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو " ۔(رد المحتار علی الدر  المختار ،کتاب الطلاق،مطلب في الطلاق بالکتابۃ،ج:4،ص:455،456 ،دار الکتب العلمیّۃ)

"الکتابۃ المرسومۃ جاریۃ مجری الخطاب"(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق،فصل في النوع الثاني،ج:4،ص:24)


فتویٰ نمبر : 6832/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں