بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

نماز جنازہ میں "وجل ثناوک"اور "سلمت وبارکت ورحمت"پڑھنا


سوال

نماز جنازہ میں دوران ثنا "وجل ثناوک " پڑھا جاتا ہے کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟اسی طرح جو درود شریف پڑھاجاتا ہے جس میں "وسلمت وبارکت ورحمت" کے الفاظ ہیں کیا یہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

نماز جنازہ میں کوئی خاص ثنامنقول نہیں ،البتہ  جو ثنا فرض نمازوں میں پڑھی جاتی ہے وہی ثنا نماز جنازہ میں بھی پڑھنا  بہترہے۔جہاں تک "وجل ثناؤک" کے اضافے کا تعلق ہے تو اگر چہ یہ کسی مشہور حدیث سے ثابت نہیں،ليكن مسند الفردوس کی ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفا ثابت ہے،لہذا اگر نماز جنازہ میں دوران ثنا "وجل ثناؤک" کا اضافہ کر لیا تو اس میں  کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح  نماز جنازہ میں کوئی بھی درود شریف پڑھا جاسکتا ہے،البتہ بہتر اور افضل درود ابراہیمی کا پڑھنا ہے۔ جہاں تک سوال میں ذکر کردہ درود کا تعلق ہے تو حدیث کی کتابوں میں تلاش کرنے کے باوجود مذکورہ درود حدیث کی کسی مستند کتاب میں نہیں ملا۔

 

ابن مسعود:إن من أحب الكلام إلى الله عز وجل أن يقول العبد سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك وجل ثناؤك ولا إله غيرك وأبغض الكلام إلى الله أن يقول الرجل للرجل اتق الله فيقول عليك بنفسك.(مسند الفردوس،رقم الحديث:819،ج:1،ص:214)

وإذا زاد " ‌وجل ‌ثناؤك " لا يمنع، وإن سكت لا يؤمر به، وفي الكافي أنه لم ينقل في المشاهير، وفي البدائع أن ظاهر الرواية الاقتصار على المشهور.(البحرالرائق،باب صفة الصلاة،آداب الصلاة،ج:1،ص:328)

قوله: "وهو سبحانك اللهم وبحمدك الخ" قال في سكب الأنهر والأولى ترك ‌وجل ‌ثناؤك إلا في صلاة الجنازة.(حاشية الطحطاوي،كتاب الصلاة،فصل الصلاة عليه،ص:584)

(‌ويصلي ‌على ‌النبي - صلى الله عليه وسلم -) كما في التشهد.قال ابن عابدين رحمه الله:(قوله كما في التشهد) أي المراد الصلاة الإبراهيمية التي يأتي بها المصلي في قعدة التشهد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب صلاة الجنازة،ج:2،ص:212)

وإذا كبر الثانية يأتي بالصلاة على النبي - صلى الله عليه وسلم - ‌وهي ‌الصلاة ‌المعروفة وهي أن يقول: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد إلى قوله إنك حميد مجيد.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة،فصل بيان كيفية الصلاة...ج:1،ص:313)


فتویٰ نمبر : 9845/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں