بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کے ساتھ بیڈ پر لیٹ جانے پر طلاق کو معلق کرنا


سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے غصہ کے وقت یہ کہے کہ"اگر اس کے بعد میں آپ کے ساتھ اس بیڈ پر لیٹ گیا تو آپ مجھ پر طلاق ہوگی "اور اس بیڈ کی طرف اشارہ بھی کرے تو شرعاً اس کا کیا حکم کیا ہوگا؟نیز اگر وہ دوسرا بیڈ خریدے تو اس بیڈ پر اس کے ساتھ لیٹ جانے کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکو رشخص نے اپنے الفاظ   "اگر اس کے بعد میں آپ کے ساتھ اس بیڈ پر لیٹ گیا تو آپ مجھ پر طلاق ہوگی "میں  ایک طلاق کو معلق کیا ہے لہذا اس کے بعد  بیوی کے ساتھ اسی بیڈپر لیٹنے کی صورت میں  ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔تاہم اگر اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کرکے یہ الفاظ کہے ہو تو اس صورت میں اگر وہ کسی دوسرے بیڈ پر بیوی کے ساتھ لیٹ گیا تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

‌فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال ".(الهداية،كتاب الطلاق،ج:1، ص:225)

وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)

 رجل جالس في بيت من المنزل فقال: إن دخلت هذا البيت فامرأته طالق فاليمين ‌على ‌دخول ذلك البيت.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،ج:1،ص:472)

 (‌الأيمان ‌مبنية ‌على ‌الألفاظ لا على الأغراض فلو) اغتاظ على غيره و (حلف أن لا يشتري له شيئا بفلس فاشترى له بدرهم) أو أكثر (شيئا لم يحنث كمن حلف لا يخرج من الباب.(الدر المختار مع رد المحتار،باب اليمين في الدخول وغيره،ج:3،ص:743)


فتویٰ نمبر : 6801/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں