بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

احد اللہ اور دیدار اللہ نام رکھنا


سوال

احدالله اور ديدار الله نام ركهنا كيسے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  ہر وہ نام جسے  حضور ﷺ ،صحابہ کرام یا قرون ماضیہ میں علماو صلحاے امت نے استعمال کیا ہو ایسا نام رکھنا جائز  اور مستحب ہےلیکن ایسا نام رکھنا مناسب نہیں ہے جس میں کسی غلط یا مشتبہ معنیٰ کا احتمال ہو۔

صورت مسئولہ میں "احد " کا معنی "ایک ،یکتا ،اکیلا"ہےاور دیدار کا معنی"نظارہ ،صورت،چہرہ ہے،چونکہ یہ کوئی بامقصد معنی والے نام نہیں  اس لیے ان کی بجائے دیگر اچھے نام رکھنا زیادہ بہتر ہے ۔

 

وفي «الفتاوى» : ‌التسمية ‌باسم ‌لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل.( المحيط البرهاني،‌‌الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم،ج؛5،ص:382)

‌ومما ‌يمنع ‌تسمية الإنسان به: أسماء الرب تبارك وتعالى فلا يجوز التسمية بالأحد ولا بالصمد، ولا بالخالق ولا بالرازق، وكذلك سائر الأسماء المختصة بالرب تبارك وتعالى.( تحفة المودود بأحكام المولود،باب حكم التكنی،ص:ٍ182)


فتویٰ نمبر : 5659/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں