بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

زنا سے حمل کے ہوتے ہوئے نکاح کرنا


سوال

اگر کوئی شخص  تین طلاق کے بعد بھی عورت کو اپنے ساتھ رکھےاور اس کے ساتھ  جماع کا ارتکاب کرلے اور اس سے حمل ٹھہر جائےجب کہ عدت گزر چکی ہو تو  اس صورت میں    اس عورت  کا دوسرے شخص سےبنیت حلالہ  نکاح  اور جماع کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی شخص  تین طلاق کے بعد بھی اگر اپنی بیوی سے جدا نہ ہواور حرمت کے قائل  ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملتے ہوں اور اس  دوران وہ جماع کا ارتکاب کریں   تو یہ زنا شمار ہو گا اور زنا سے عدت واجب نہیں ہوتی اور نہ زنا نکاح سے مانع ہے اور  اگر زنا سےحمل ٹھہر گیا ہوں تو حمل کے ہوتے ہوئے نکاح تو جائز ہے البتہ وضع حمل تک جماع جائز نہیں، البتہ اگر زوج ثانی حلالہ کے لیے ایسا کرےتو جماع اگرچہ  ناجائز ہےلیکن نکاح صحیح موجود ہونے کی وجہ سےدوسرے شوہر کے جماع کو زنا نہیں کہا جائے گا،لہذا اس دوسرے شوہر کے جماع سےیہ زوج اول کے لیے حلال  ہو جائے گی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر ایسی عورت دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے جب کہ اس کا حمل زنا سے ہو تو اس کے ہوتے ہوئے وہ نکاح کرسکتی ہے البتہ خاوند کا جماع کرنا جائز نہیں تاہم اگر وہ  اس وقت حاملہ سے جماع کرے اور طلاق دےدے تو عدت گزارنے کے بعدیہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گی۔

 

والزنا لا يوجب العدة ولا يمنع من أن تتزوج۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:475)

وعلى هذا يخرج ما إذا تزوج امرأة حاملا من الزنا أنه يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد، ولكن لا يطؤها حتى تضع ۔(بدائع الصنائع،ج:2ِص:269)

(والإيلاج في محل البكارة يحلها والموت عنها لا) ۔۔۔يشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين بلا حائل يمنع الحرارة، وكونه عن قوة نفسه فلا يحلها من لا يقدر عليه إلا بمساعدة اليدإلا إذا انتعش وعمل ولو في حيض ونفاس وإحرام؛ وإن كان حراما؛ وإن لم ينزل لأن الشرط الذوق لا الشبع قلت: وفي المجتبى: الصواب حلها بدخول الحشفة مطلقا۔(الدر المختار مع ردا المحتار،ج:3،ص:414)


فتویٰ نمبر : 6799/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں