بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ایک شخص کی بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا


سوال

ایک جگہ دھماکہ ہوا، وہاں پر ایک بندہ موجود تھا، لیکن وہاں پر موجود سارے لوگ مر گئے اور ان میں سے کسی کی بھی پہچان نہیں ہوسکی کہ یہ کس کی لاش ہے۔ اس بندے کی بیوی نے عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرلی۔ پھر تقریبا دو سال بعد یہ بندہ گھر واپس آگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عورت اپنے دوسرے شوہر کے پاس رہے گی یا پہلے شوہر کے پاس واپس آئے گی؟ اگر واپس آئے گی تو اس کا طریقہ کار کیاہوگا؟

جواب

کسی شخص کی منکوحہ عورت سے دوسرے شخص کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اگر کسی شخص نے اس طرح نکاح کیا تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا بلکہ باطل قرار دیا جائے گا۔

صورت مسئولہ  میں دو سال بعد پہلے شوہر کے آجانے سے معلوم ہوا کہ اس کے مرجانے کا گمان درست نہیں تھا ، لہذا یہ عورت بدستور پہلے شوہر کے نکاح میں ہےاور دوسرے شوہر سے اس کا نکاح باطل ہے۔البتہ پہلے شوہر کے مرنے کے گمان کی وجہ سے ایک شبہ کی بنیاد پر دوسرا نکاح کیا گیا ہے، اس لیے پہلے شوہر پر لازم ہے کہ وہ  بیوی سے صحبت  کرنے کے لیےایک حیض گزرنے تک انتظار کرے ۔

 

" والمنكوحة نكاحا فاسدا والموطوءة بشبهة عدتهما الحيض في الفرقة والموت " لأنها للتعرف عن براءة الرحم لا لقضاء حق النكاح والحيض هو المعرف. (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:2، ص: 275، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

(القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير) . ‌لا ‌يجوز ‌للرجل ‌أن ‌يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج... ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها منكوحة الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها منكوحة الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها. (الفتاوى الهندية، ج:1، ص:280، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6798/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں