بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ریفریشمنٹ کے لیے گانا سننا


سوال

ریفریشمنٹ کے لیے گانے سننا جائز ہے یا ناجائزجب کہ انسان کو  اس کے سننے سے سکون مل جاتا ہو؟

جواب

موسیقی  کے ساتھ گانا سننا شرعاً ناجائز ہے ،اس کا سننا دل میں نفاق جیسی مہلک بیماری پیدا کرتا ہے۔البتہ جب کوئی شخص اکیلے ہو اور صرف دل بہلانے کے لیے   موسیقی کے بغیر   اشعار  سنتا ہے یا پڑھتا ہے تو اس کی گنجائش ہے  بشرط یہ کہ خلاف شرع امور پر مشتمل نہ ہوں۔

صورت مسئولہ کے مطابق ریفریشمنٹ  کے لیے موسیقی اور ساز کے ساتھ گانا سننا تو  کسی بھی صورت میں جائز نہیں البتہ تنہائی میں دل بہلانے کےلیے موسیقی کے  بغیر  اشعار  سننے اورپڑھنے   کی گنجائش ہے۔

 

"(وعن جابر-رضي الله تعالى عنه-قال:قال رسول اللهﷺ:الغناء):بكسر الغين ممدودا أي:التغني(ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع):يعني الغناء سبب النفاق ومؤد إليه،…وقال النووي في الروضة:غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه،وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة،".(مرقاة المفاتيح،كتاب الآداب،باب البيان والشعر،ج:7،ص:3024،الرقم:4810)

‌"اختلفوا ‌في ‌التغني ‌المجرد قال بعضهم إنه حرام مطلقا والاستماع إليه معصية وهو اختيار شيخ الإسلام ولو سمع بغتة فلا إثم عليه ومنهم من قال لا بأس بأن يتغنى ليستفيد به نظم القوافي والفصاحة ومنهم من قال يجوز التغني لدفع الوحشة إذا كان وحده ولا يكون على سبيل اللهو وإليه مال شمس الأئمة السرخسي".(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب السابع عشر،ج:5،ص:351)


فتویٰ نمبر : 5636/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں