بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جانور کو قرآن کے سائے میں گزارنا


سوال

جانوروں میں ایک خاص بیماری ہوتی ہے۔ تو لوگ کسی صاف کپڑے میں قرآن پاک لپیٹ کر پھر اس کے نیچے سے جانور کو گزارتے ہیں۔ شرعی لحاظ سے یہ عمل کرنا کیسا ہے؟

جواب

جانور کو بیماری سے شفایابی کے لیے قرآن کے سائے میں گزارنے کی شرعا  کوئی حیثیت نہیں ، اس میں قرآن پاک کی بے ادبی کا  اندیشہ ہے،اور اگر کہیں قرآن کے سائے میں گزار کر بھی شفا ء نہ ملی تو اس سے قرآن کے متعلق عقیدہ بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ لہذا اس عمل سے احتراز کرنا چاہیے  ۔ نیز اگر کسی کا  قرآن کے سائے میں جانور گزار کر شفایاب ہونے کا عقیدہ ہو اور اس کو مستقل عبادت سمجھے توگویا یہ  اپنی طرف سے دین میں اضافے کے مترادف ہے ،اس لیے  یہ بدعت کے زمرے میں بھی شمار ہوگا۔بہر حال اس عمل سے احتراز کیا جائے۔

"عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»".(صحيح البخارى،كتاب الصلح،ج:3،ص:184،الرقم:2697)

"(ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة،…(‌قوله ‌وهي ‌اعتقاد ‌إلخ) عزاه هذا التعريف في هامش الخزائن إلى الحافظ ابن حجر في شرح النخبة،…وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول اللهﷺمن علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيمااهـ فافهم".(الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الصلوة،باب الامامة،ج:1،ص:560)


فتویٰ نمبر : 5635/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں