بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

"اگر میں نے نسوار کی تو میری بیوی کو کلما طلاق ہوگی" کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

اگر ایک شخص اس طرح کہے کہ "اگر میں نے نسوار کی تو میری بیوی کو کلما طلاق ہوگی"، جب کہ ابھی تک وہ غیر شادی شدہ ہے، اس نے نکاح نہیں کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے آدمی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں کوئی عورت منسلک ہو یا اگر ابھی تک نکاح نہ ہوا ہو توایسے الفاظ کے ساتھ طلاق کو معلق کرے جو ملکیت یا ملکیت کا سبب ہو تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص ابھی تک غیر شادی شدہ ہو اور اس نے اس طرح الفاظ کہے کہ "اگر میں نے نسوار کی تو میری بیوی کو کلما طلاق ہوگی" تو یہ الفاظ لغو ہوں گے، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

 

" ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " لأن الجزاء لا بد أن يكون ظاهرا ليكون مخيفا فيتحقق معنى اليمين وهو القوة والظهور بأحد هذين والإضافة إلى سبب الملك بمنزلة الإضافة إليه لأنه ظاهر عند سببه " فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق " لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما. (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:1، ص:244، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

إنه قد اشتهر في ‌رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام. (رد المحتار على الدر المختار، ج: 3، ص:247، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6797/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں