بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 12/08/2026 |
دارالافتاء
عذرکی بناپر مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا
سوال
ہمارے گاؤں میں نمازِ جنازہ ادا کرنے کے لیے کوئی خاص جگہ یاجنازگاہ نہیں ہے لوگ کھیتی باڑی والی زمین میں نمازجنازہ ادا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن جب کھیت میں فصل ہوتوگاؤں کے لوگ نماز ِجنازہ ایک گراؤنڈ میں ادا کرتے ہیں جو ہم سے تقریباً آدھاگھنٹہ کے فاصلہ پر ہےجہاں تک جنازہ لے جانے میں لوگوں کوکافی مشکلات ہوتی ہے حالانکہ ہمارے گاؤں میں آسانی کے ساتھ مسجد میں نمازِجنازہ ادا کی جاسکتی ہےتو کیا ایسی صورت میں مذکورہ عذر کی بناپر شرعاً ہم مسجد میں نمازجنازہ ادا کرسکتے ہیں؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کے اندر بلا کسی عذر کے نمازِ جنازہ ادا کرنا مکروہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر واقعی کوئی عذر ہو اور مسجد کے علاوہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے کوئی اور جگہ نہ ہو تو پھر مسجدمیں نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعی کھیتی باڑی کے موسم میں نماز جنازہ پڑھنے کے لیے گاؤں کے قریب کوئی جگہ نہ ہو اور کھلے میدان تک نماز جنازہ لے جانے میں لوگوں کو تکلیف ہو تو مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کی گنجائش ہے تاہم اس صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ میت کو محراب کی جانب باہر رکھ کر امام اور چند مقتدی اس کے ساتھ باہر کھڑے ہوں اور باقی لوگ مسجد کے اندر ہوں ۔
وقوله (ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) إذا كانت الجنازة في المسجد، فالصلاة عليها مكروهة باتفاق أصحابنا، وإن كانت الجنازة والإمام وبعض القوم خارج المسجد والباقي فيه لم تكره بالاتفاق، وإن كانت الجنازة وحدها خارج المسجد ففيه اختلاف المشايخ. (العناية شرح الهداية، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل في الصلاة على الميت، ج:2، ص:492)
“إنما تكره في المسجد بلا عذر، فإن كان فلا، ومن الأعذار المطر كما في الخانية."(رد المحتار على الدر المختار،باب صلوة الجنازة، ج:2 ، ص:226)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں