بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں اذن عام کا حکم


سوال

ایک  مضارب نے رب المال سےپشتو میں کہاکہ  " زہ بہ خپلے مرضئ مطابق کاروبار کوم(میں اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا ہوں) " رب المال نے جواب دیا "پہ خپلہ مرضئ کار کوہ"(اپنی مرضی سے کام کرو) ایک مفتی صاحب کہتے ہیں کہ مذکورہ الفاظ " اعمل برأيك" کی  طرح اذن عام پر دلالت کرتے ہیں، ایسے الفاظ سے مضارب کا کسی اور کو مضاربت یا شراکت پردینا جائز ہے جبکہ دوسرے مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ان الفاظ سے اذن عام حاصل نہیں ہوتا اور کسی کو  مضاربت پر نہیں دے سکتا نہ شراکت کا معاملہ کرسکتاہے جیسے شامی کی عبارت ہے"لایملک المضاربۃ والشرکۃ والخلط بمال نفسہ إلا بإذن او اعمل برأيک" ۔سوال یہ ہےکہ مذکورہ الفاظ اذن عام پر دلالت کرتے ہیں یا نہیں؟

جواب

             عقد  مضاربت میں  جب رب المال مضارب سے یہ کہہ دے کہ اپنی مرضی اور رائے کے مطابق کام کر نےکی آپ کو اجازت ہے تو ایسی صورت میں مضارب  ہر وہ کام کرسکتا ہے جو تجارت کے قبیل سے ہو،چناچہ کسی دوسرے کو بھی شرکت یا مضاربت پر دے سکتا ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق اگر رب المال نے مضارب سے عقد مضاربت کرتے وقت یہ الفاظ "پہ خپلہ مرضی کار کوہ"(اپنی مرضی سے کام کرو)کہے ہو ں تو ایسی صورت میں مضارب کسی دوسرےشخص کو مضاربت یا شرکت  کے طور پر وہ سرمایہ دے سکتا ہے۔

 

ولو دفع إلى رجل مالا مضاربة بالنصف، وقال له: ‌اعمل ‌برأيك فدفعه المضارب إلى رجل مضاربة بالثلث فعمل به وربح فللمضارب الآخر ثلث الربح، وللأول سدسه، ولرب المال نصفه؛ لأن دفعه إلى الثاني مضاربة كان بإذن رب المال حين قال له: ‌اعمل ‌برأيك، فالمضارب بهذا اللفظ يملك الخلط والشركة والمضاربة في المال؛ لأن ذلك كله من رأيه، وهو من صنيع التجار إلا أن رب المال شرط لنفسه نصف جميع الربح فلا يكون للمضارب الأول أن يوجب شيئا من ذلك لغيره، بل ما أوجبه للثاني، وهو ثلث الربح ينصرف إلى نصيبه خاصة، كأحد الشريكين في العبد إذا باع ثلثه.(المبسوط للسرخسي،كتاب المضاربة،باب المضارب يدفع المال مضاربة،ج:22،ص:102)

(وأما) القسم الذي للمضارب أن يعمله إذا قيل له: اعمل برأيك وإن لم ينص عليه، فالمضاربة والشركة والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره، وأن يشارك غيره في مال المضاربة شركة عنان، وأن يخلط مال المضاربة بمال نفسه، إذا قال له رب المال: اعمل برأيك وليس له أن يعمل شيئا من ذلك، إذا لم يقل له ذلك.(بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،فصل في بيان حكم المضاربة،ج:6،ص:188)


فتویٰ نمبر : 3444/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں