بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
غیر مسلموں کا ڈیٹا یا بینک اکاؤنٹ ہیک کرنا
سوال
ڈیٹاہیکنگ (Data Hacking)، اور بینک اکاؤنٹ ہیکنگ (Bank Account Hacking)کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جب کہ وہ ڈیٹا یا بینک اکاؤنٹ ایسا ہو جو غیر مسلموں کی ملکیت میں ہو اوراور اس کے پیسے مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتے ہو۔ ہیکنگ کے ذریعے اسے ختم کرنا یا خود کو منتقل کرکے مسلمانوں کے فائدے میں استعمال کرنا کیسا ہے؟واضح رہے کہ یہ نقصان کسی اسلامی ملک کا نہیں ہوتا بلکہ عام مسلمانوں کا ہوتا ہے۔
جواب
غیر مسلموں کا مال امن و امان اور عام حالات میں ان کی اجازت کے بغیر ان سے لینا جائز نہیں، ہاں اگر ان سے برسرپیکار ہونے کے نتیجے میں غنیمت کے طور پر کوئی مال ہاتھ آئے،تو وہ شرعا حلال ہے۔اسی طرح کسی کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی (Privacy) میں اس کی اجازت کے بغیر دخل اندازی کرنابھی جائز نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی کا ڈیٹا ہیک کرنا اس کی اجازت کے بغیر اس کی پرائیویسی میں دخل اندازی کے زمرے میں آتا ہے، لہذا ایسا کرنا جائز نہیں۔ نیز سوال میں بیان کردہ صورتحال کے مطابق غیر مسلموں کا بینک اکاؤنٹ ہیک کرکے اس میں موجود رقم تلف کرنا یا خود کو منتقل کرنا بھی جائز نہیں، بالخصوص جب اس سے براہ راست کسی اسلامی ملک یا مسلمانوں کی سالمیت کو ضرر بھی نہ ہو۔
عن المسور بن مخرمة ومروان، يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه، قالا:خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية، حتى كانوا ببعض الطريق، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن خالد بن الوليد بالغميم، في خيل لقريش طليعة، فخذوا ذات اليمين). فوالله ما شعر بهم خالد حتى إذا هم بقترة الجيش، فانطلق يركض نذيرا لقريش... وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية فقتلهم، وأخذ أموالهم، ثم جاء فأسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (أما الإسلام فأقبل، وأما المال فلست منه في شيء)... الحديث إلى آخره. (صحيح البخاري، ج:1، ص:377 تا 381، رقم الحديث: 2747، المكتبة المظهرية ، كراتشي)
فقال رسول الله، صلى الله عليه وسلم: أما المال فلست منه في شيء، يريد: في حل، لأنه علم أن أصله غصب، وأموال المشركين، وإن كانت مغنومة عند القهر، فلا يحل أخذها عند الأمن. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج:14، ص:11، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
وإذا دخل المسلم دار الحرب تاجرا فلا يحل له أن يتعرض لشيء من أموالهم ولا من دمائهم، فإن غدر بهم أعني التاجر فأخذ شيئا وخرج به ملكه ملكا محظورا. (الفتاوى التاتارخانية، ج:7، ص:147، مكتبه رشيديه، كوئٹه)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں