بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

حرمت مصاہرت کی ایک صورت


سوال

 ایک شخص کا اپنی چچی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھےاور پھر اسی چچی کی بیٹی سے اس نے شادی کرلی ۔ تو کیا مذکورہ صورت میں اس کا نکاح اپنی چچی کی بیٹی کے ساتھ جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

حرمت مصاہرت تب ثابت ہوتی ہے جب عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب ہو،یا انزال ہوئے بغیر شہوت کے ساتھ اس کو اس طرح چھوا ہو کہ بدن کی حرارت محسوس ہو،یا اندام نہانی کو بغیر کسی حائل کے دیکھا ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے ناجائز تعلقات کی بنا پراپنی چچی کے ساتھ زنا کی ہو،یا انزال ہوئے بغیر شہوت کے ساتھ اس کو اس طرح چھوا ہو کہ بدن کی حرارت محسوس کی ہو،یا اندام نہانی کو کسی حائل کے بغیر براہ راست قصداً عمدا ًدیکھا ہو،تو حرمت مصاہرت ثابت ہوگی لہذا اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز نہ ہوگا۔البتہ اگر مذکورہ  امور میں سے کسی ایک امر کا بهى ارتکاب نہ کیا ہو ،تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی اور نکاح جائز ہوگا ۔

 

"و تثبت حرمةالمصاهرۃ بالزنا والمس والنظر بدون النکاح والملک وشبہتہ".(بدائع الصنائع،کتاب النکاح، ج:4، ص:464، دارالکتب العلمیة)

"ومن مسته إمرأة بشهوة حرمت عليه أمهاوإبنتها... ولو مس فأنزل فقد قيل :إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء".(الهداية،كتاب النكاح،ج:2،ص:329،مكتبة رحمانية)

"و کما تثبت ھذہ الحرمۃ بالوطء تثبت بالمس والتقبیل والنظرإلی الفرج بشہوۃ ، کذا في الذخیرۃ . سواء کان بنکاح أوملک أو فجورعندنا، کذا في الملتقط".(الفتاوى الھندیة، کتاب النکاح،ج:1،ص:339،دارالفکر،بیروت)


فتویٰ نمبر : 6807/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں