بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بکریوں میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

اگرایک گھر میں والدین کے 6 یا 7بچے ہوں اور اس گھر میں 80 یا 90 بکریاں  ہوں اور  بکریوں ں اور کچھ پوتوں کی ہوں اور خریدوفروخت والد صاحب کرتا ہوں  اور دودھ وغیرہ پورےگھر میں استعمال ہوتاہوں ( تجارت بھی کرتے ہیں اور دودھ بھی استعمال ہوتا ہے )، اب ان پر زکوٰۃ واجب ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مویشیوں میں مویشیوں والی زکوٰ ۃ تب واجب ہوگی جب اس کی پرورش کا مقصوددودھ کا حصول اور افزائش نسل ہواور ایسے جانور جو باربرداری یانقل وحمل کے لئے رکھے جائیں یا جن کو ذبح کرکے گوشت اور غذابنانامقصود ہو ، ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ۔ اسی طرح جو جانور افزائش نسل کی بجائے خریدوفروخت اور تجارت کے لئے رکھے جائیں تو ان میں مال تجارت کے حساب سے قیمت لگا کرزکوٰۃواجب ہوگی ۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  مذکورہ  بکریوں سے مقصوددودھ کا حصول اور افزائش نسل ہو تو اس صورت  میں اگریہ سائمہ ہویعنی پورے سال یا سال کے اکثرحصے میں اس کے چارے کا انتظام  مالک کو نہ کرنا پڑے، بلکہ وہ چراگاہوں یا کھلے میدانوں سے چرتےہوں توبکریوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی اوراگر بکریاں تجارت کی  ہو ں تو پھر ان میں مال تجارت کے حساب سے یعنی قیمت لگا کرزکوٰۃواجب ہوگی ۔ نیزاگر حقیقی ملکیت والد کی ہو لیکن بچوں  کے لئے صرف نامزد کی ہوں تو پھر زکوٰۃوالد پر ہوگی، لیکن اگرانہوں نے حقیقتاًبچوں اورپوتوں کو ملکیت میں دی ہو ں تو پھر ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

 

الزكاة واجبة علی الحر ،العاقل، البالغ، المسلم، إذا ملك نصاباً، تاماً، واحال عليه الحول.(الهداية،كتاب الزكوة،ج:2،ص:3)

وأما صفة نصاب السائمة فله صفات منها أن يكون معدا للإسامة وهو أن يسيمها للدر والنسل لما ذكرنا أن مال الزكاة هو المال النامي وهو المعد للاستنماء، والنماء في الحيوان بالإسامة إذ بها يحصل النسل فيزداد المال فإن أسيمت للحمل أو الركوب أو اللحم فلا زكاة فيها.( بدائع الصنائع، فصل نصاب الغنم، ج:2، ص:30)

فإن كانت ‌للتجارة ‌فحكمها حكم العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة.ا(لفتاوى الهندية، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض،الفصل الثاني في العروض،ج:1، ص:178)

وأما نصاب الغنم فليس في أقل من أربعين من الغنم زكاة، فإذا كانت أربعين ففيها شاة إلى مائة وعشرين، فإذا كانت مائة وإحدى وعشرين ففيها شاتان إلى مائتين.)بدائع الصنائع، فصل نصاب الغنم، ج:2، ص:28)


فتویٰ نمبر : 9840/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں