بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تبلیغی جماعت کا کسی علاقہ میں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت کرنا


سوال

ایک تبلیغی جماعت جب تبلیغ کے لئے جاتی ہے تو ایک مسجد میں 15 دن سے کم ٹھرتی ہو ، کسی مسجد میں 10 دن کسی میں 9 دن ، غرض ہر مسجد میں ان کا 15دن سےکم ٹہرنا  ہوتا ہے ، تو اب ان کی نماز کا کیا حکم ہے وہ پوری نماز ادا کریں گے یا قصر نماز؟ اور اگر کسی نے لاعلمی میں قصر کے بجائے پوری نماز ادا کی یا کامل نماز کے بجائے قصر نماز ادا کی تو  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر تبلیغی جماعت کی کسی ایک شہر یا گاؤں میں 15 دن یا اس سے زیادہ دنوں کے لیے تشکیل کی گئی  ہو اور اس کے اندر اندر مساجد میں جانا ہو تو اس شہر یا گاؤں میں وہ جماعت مقیم کہلائے گی لہذا  پوری نماز پڑھیں گے، چاہے مساجد کے مابین جتنا بھی فاصلہ ہو۔ اور اگر کئی بستیوں میں تشکیل ہو جس کی وجہ سے 15 دن سے پہلے ایک بستی سے دوسری بستی یا گاؤں جانا پڑتا ہو تو اس صورت میں جماعت مسافر کہلائے گی ، لہذا  قصر نماز پڑھیں گے۔ مسافر پر قصر  نماز پڑھنا واجب ہےلیکن اگر مسافر نے  ظہر، عصر اور عشاء کی نماز میں  بھول کر  یا لا علمی کی وجہ سے دو رکعت کے بجائے چار رکعتیں پڑھ لے تو اگر دوسری رکعت  پر قعدہ کرلیا تھا  اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا تھا تو نماز درست ہوجائے گی، اور اگر آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تو اس نماز کے وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہے ، وقت  گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہے۔ اور اگر   مسافر نے دوسری رکعت پر قعدہ  نہیں کیا  تو اس کا فرض ہی ادا نہ ہوگا، اعادہ کرنا واجب ہوگا۔اور اگر کسی مقیم نے پوری نماز کے بجائے قصر  نماز پڑھی تو وہ نماز ادا نہیں ہوئی لہذادوبارہ پڑھے گا  یا وقت گزرنے کی صورت میں قضاپڑھے گا۔

 

(‌فلو ‌أتم ‌مسافر ‌إن ‌قعد ‌في) القعدة (الاولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح لنقل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل.(  (ردالمحتار على الدر المختار، ج:2، ص:128)

(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل ما يصير به المسافر مقيما، ج1، ص:98)


فتویٰ نمبر : 9840/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں