بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں کام کرنے کا عوض لینا


سوال

بندہ نے ایک مدرسہ کے لئے تقریباً 43 مرلے زمین خریدی اور پانچ سال تک بیسمنٹ،آٹھ کمرے اور چاردیواری عوامی چندے سے تعمیر کیا۔مزدوروں کے لئے کھانا تیار کرنا اور اس کی تمام تر خدمات اب تک بندے کے اہلیہ اور بچوں نے کیا۔اب حالات کچھ مشکل ہوگئے تو کیا بندہ اپنے لئےیا جو بیٹا وغیرہ مدرسے میں خدمت کرتا ہو،وہ کچھ مناسب تنخواہ چندے سے لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی مسجد ومدرسہ کی خدمت میں مصروف ہواور عوض لینا چاہتا ہوتو  مدرسہ کے انتظامیہ یا شوری کی اجازت سےاگرمتعین کام یا مدت کے عوض  اجرت مقرر کیا جائے توپھر معاہدہ کے مطابق خدمات انجام دے کر اس کےلئےاجرت لینا جائز ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق کوئی شخص اگرمدرسے کی   خدمت میں مصروف ہواور اس کے لئے ان خدمات کے عوض تنخواہ طے کی جائے تو اس  کے لیے اس کا لینا جائز ہے ۔

 

"وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد يكنسه ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها فإن كان أكثر فالإجارة له وعليه الدفع من مال نفسه ويضمن لو دفع من مال الوقف".(الفتاوى الهندية كتاب الوقف،الباب الحادي عشرفي المسجدوما يتعلق به،ج:2،ص:461،ط:رشیدیة)

وفیہ ایضاً: "سئل الفقيه أبو القاسم عن قيم مسجد جعله القاضي قيمًا على غلاتها و جعل له شيئًا معلومًا يأخذه كل سنة حل له الأخذ إن كان مقدار أجر مثله، كذا في المحيط".(كتاب الوقف،الباب الحادي عشرفي المسجدوما يتعلق به،ج:2،ص:461،ط:رشيدية)

 

 

 


فتویٰ نمبر : 5629/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں