بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ضرورت کے وقت چندے کے پیسے استعمال کرنا


سوال

میرے پاس مدرسے کے چندے کے پیسے ہوتے ہیں۔بعض اوقات  میں ضرورت کے وقت اس فنڈ سے پیسے لیتا ہوں اور اپنی ضروریات پوری کرلیتا ہوں اور بعد میں لی ہوئی رقم کے بقدر واپس کرلیتا ہوں۔کیا اس طرح کرنا شدید مجبوری میں جائز  ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد یا مدرسے  کے نام پر لوگوں سے جمع کردہ رقم کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے، جس میں متعلقہ مصرف میں خرچ کرنے کی بجائے دوسری جگہوں پرخرچ کرنا شرعاجائز  نہیں بلکہ خیانت کے زمرے میں آتاہے، اس لئے مدرسے کی رقم کو ذاتی کام میں استعمال کرناشرعاجائز نہیں ہےتاہم اگر کوئی اس سے خرچ کرےتو امانت میں خیانت کی وجہ سے وہ خرچ کردہ رقم کے بقدر ضامن ہوگا،جس کا لوٹانا ضروری ہے لیکن امانت میں خیانت کی وجہ سے جو گناہ سرزدہوا، اس پر توبہ استغفار اور آئندہ کے لیے احتیاط لازم ہے۔

 

قال سبحانہ وتعالی:فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه۔(بقرة: 283)

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني .الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن ، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،ج:4،ص:388 )

أن القيم ليس له ‌إقراض ‌مال ‌المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض.(البحر الرائق،كتاب الوقف،باب تصرفات الناظر في الوقف،ج:5،ص:259)

 

 

 


فتویٰ نمبر : 5628/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں