بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

غیر سودی بینک کو کرایہ پر جگہ دینا


سوال

کیاغیر سودی  بینک کو کرایہ پر جگہ دینا شرعا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنا مملوکہ مکان کرایہ پر دینا اور لینا دونوں جائز ہےالبتہ  معاہدہ طے کرتے وقت کرایہ کی مقدار اور مدت کی تعیین ضروری ہے۔ لہذا صورت  مسئولہ کے مطابق وہ غیر سودی بینک جو شرعا ناجائز معاملات میں ملوث نہیں ہوتے اور شرعی اصولوں کے تحت مستند مفتیان کرام کی زیرِ نگرانی چل رہے ہوتے ہیں،ان کو کرایہ پر جگہ دینا شرعاً جائز ہے۔

 

"تملیک نفع بعوض ۔۔۔ ویعلم النفع ببیان المدةکالسکنی والزراعة مدة کذا".(ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:6، ص:06)

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.(الدرالمختار على صدرالمحتار،كتاب الإجارة،باب شروط الإجارة،ج:6،ص:5)

و"قال آجرتک منفعة هذه الدار شهرا بکذا یجوز علی الاصح". (الفتاوی الهندية، ج:4، ص:409)

 

 


فتویٰ نمبر : 3424/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں