بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کلما طلاق کی قسم کا حکم


سوال

اگرکوئی شخص کلما طلاق کی قسم کھائے تو اس کا قسم منعقد ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ لفظ" کلما"عربی میں  شرط   کے لیے استعمال ہوتا ہےاور یہ اس وقت عمل کرتا ہے جب اس کے ساتھ شرط وجزاء  دونوں ذکر کی جائیں جیسے کوئی شخص کہے"کلما تزوجت فھی طالق" یہ الفاظ کہنے کے بعد   جب بھی یہ شخص نکاح کرے گا  تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گی، لیکن اگر کلما کے ساتھ شرط و جزاء کا ذکر نہ ہو تو اس کا کوئی معنی نہ ہوگا،چنانچہ عوام میں جو "کلما کی قسم" یا "کلما کی طلاق" رائج ہے(یعنی پورے الفاظ قسم یا الفاظ طلاق  کی ادائیگی  کے بغیر  صرف کلما کا  لفظ ذکر کرنا) اس پر قسم یا طلاق کے شرعی احکام مرتب نہیں ہوتے۔

 

وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام۔(ردالمحتارعلى الدرالمختاركتاب الطلاق،باب الصريح،ج:3،ص:427)


فتویٰ نمبر : 6794/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں