بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ورثا میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہوں تو میراث کی تقسیم


سوال

عائشہ نامی عورت کا انتقال ہوا،اس کے ورثا میں ایک بیٹا(محمد ایوب)اور دو بیٹیاں(نجم الخدا،حبیبہ)زندہ ہیں،ان کے مابین میراث کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب

     میــــــــــــــــــ(4)ــــــــــت

     بیٹا           بیٹی        بیٹی

  محمد ایوب    نجم الخدا    حبیبہ

     2             1            1

 بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث اس کا ترکہ چار(4) حصوں میں تقسیم کر کےبیٹے کو2/4 حصےاور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 1/4حصہ ملے گا۔

 

قال اللہ تعالی: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ.(النساء:11)


فتویٰ نمبر : 3514/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں