بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کےاونٹوں کے ساتھ اجنبی شخص کا اونٹ شامل ہوجائے


سوال

ایک اونٹ ہمارے اونٹوں میں شامل ہوا ہے،اور اب ایک سال گزر گیا ہے ہم نے اعلان وتشہیر کی واٹس ایپ وغیرہ میں لیکن اس کا مالک معلوم نہ ہوسکا،تو اب شرعا اس کا کیا حکم ہے؟آیا اس کو صدقہ کردیں یا کسی مدرسہ میں ذبح کریں؟

جواب

کسی  شخص  کواگركو ئی ایسی  چیز مل جائے جس کا مالک معلوم نہ  ہوتو یہ لقطہ  کے زمرے میں داخل ہے، اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ لقطہ کی نوعیت کو دیکھ کراس کی تشہیر کی جائے اور جب اتنا وقت گزر جائے کہ غالب گمان ہوجائے کہ اب مالک اس کی تلاش نہيں کرے گاتوایسی صورت  میں اگر وہ خود فقیر ہے تو وہ اس کو خود استعمال کرسکتا ہے،لیکن اگر وہ مالدار ہے تو پھراس کو صدقہ کردے،البتہ اگر صدقہ کرنے یا خود استعمال کرنےکے بعد مالک مل جائے اور وہ صدقہ کرنے پر راضی  نہ ہوتو پھراس کو اختیار ہے چاہے تو صدقہ کرنے والے کو ضامن قراردے اور چاہے تو فقیر کو،اور وہ جس کو بھی ضامن ٹھہرائے وہ قیمت ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعتاً سائل  نےمذکورہ اونٹ کی   تشہیر کی ہو جس کے لیےحتی الوسع  جدید ذرائع کا سہارا بھی لیاہو اور اب اس کا غالب گمان  یہ ہو کہ مالک اس کوتلاش نہیں کرے گاتو اگر سائل خود فقیر ہے تو مذکورہ اونٹ کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن اگر مالدار ہے تو پھر کسی فقیر کو صدقہ کردے۔

 

ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح.(الفتاوى الهندية،كتاب اللقطة،ج:2،ص:289)

إن جاء صاحبها ‌فأمضى ‌الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده.(الفتاوى الهندية،كتاب اللقطة،ج:2،ص:289)

‌إن ‌كان ‌الملتقط ‌محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء.(الفتاوى الهندية،كتاب اللقطة،ج:2،ص؛291)

قوله:(وندب التقاط البهيمة الخ) وقال الأئمة الثلاثة: إذا وجد البقر والبعير في الصحراء فالترك أفضل...ولنا أنها لقطة يتوهم ضياعها فيستحب أخذها وتعريفها صيانة لأموال الناس كالشاة، وقوله عليه السلام: "في ضالة الإبل، مالك ولها؟ معها سقاؤها وحذاؤها ترد الماء وتاكل الشجر، فذرها حتى يجدها ربها" أجاب عنه في المبسوط بأنه كان إذ ذالك لغلبة أهل الصلاح والأمانة، وأما في زماننا فلا يأمن وصول يد خائنة إليها بعده، ففي أخذها إحياؤها وحفظها فهو أولى.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب اللقطة،ج:6،ص:440)


فتویٰ نمبر : 5642/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں