بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

شک کی صورت میں حرمت مصاہرت کا حکم


سوال

میں مسئلہ مصاہرت کے متعلق وہمی سا ہو گیا ہوں اور اب ہر وہ عورت جو محرم ہو جب اس سے ہاتھ ملاتا ہوں تو ایک دم یہ مسئلہ میرے ذہن میں آجاتاہےاورذہن میں اس کے وسوسے بھی آنے لگتے ہیں تو کیا ا ن وسوسوں سے تو حرمت ثابت نہیں ہو گی کیونکہ اپنی کسی قسم کی کوئی تمنا نہیں ہوتی اور چونکہ وہمی ہوں اور وسوسے کثرت کیساتھ آتے ہیں بسا اوقات دور کرتے کرتے آلہ تناسل میں تھوڑی حرکت سی بھی پیدا ہو جاتی ہے لیکن میلان قلب نہیں ہوتا کیونکہ جو عورت ہے اس کی طرف رغبت جماع کا پیدا ہونا محال ہے اگر محال نہیں تو بہت بعید ہے اور میلان قلب کا صرف مسئلہ ذہن میں گھوم رہا ہوتا ہے کہ کہیں میلان نہ پیدا ہو جائےتو کیا حکم ہو گا ؟ 

جواب

              واضح رہے کہ  انسان کے ذہن میں اختیاری اور غیر اختیاری طور پر مختلف قسم کے خیالات اور وسوسے آتے ہیں ان پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا،اس طرح حرمت مصاہرت کے ثبوت کےلئے شہوت اور میلان کایقینی ہونا ضروری ہے لہذاجب تک یقین نہ ہوصرف شک اور وسوسہ کی بنا  پرحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی­­۔

               صورت مسؤلہ میں سائل نےجو کیفیات بیان کی ہیں یہ محض  وہم اور وسوسہ ہے لہذا اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی­­­۔

 

عن ابی ھریرۃؓ قال:قال النبيﷺ: "إنّ اللہ تجاوز عن أمّتي ما وسوست بہ صدورھا مالم تعمل او تکلّم"(الصّحیح للبخاري، رقم الحدیث:2529 ،باب الخطاءوالنسیان في الطّلاق والعتاق ونحوہ، ج:1ص:343) 

"وعلی التوجیه ما قاله صاحب الأزھار۔۔۔ فالصّواب ما قاله الطیبي من أنّ الوسوسة ضروریّة واختیاریّة، فالضروریّة: ما یجري في الصدور من الخواطرابتداءً ولا یقدرالإنسان علی دفعه فھو معفوّ عن جمیع الا۠مم، والاختیاریّة ‏: ھي الّتي تجري في القلب وتستمرّ وھو یقصد و یعمل به ویتلذّ ذ منه کما یجري في قلبه حبّ امرأۃ ویدوم علیه و یقصد الوصول إلیھا وماأشبه ذالک من المعاصي، فھذا النوع عفا اللہ عن ھذہ الأمّة خاصّة۔۔۔"(مرقاۃالمفاتیح،ملّاعلي قاري،کتاب الإیمان،باب في الوسوسة،الفصل الأوّل،ج:1،ص:228)

 وقال عامّةالعلماء:الشّهوة أن يميل قلبه إليها ويشتهي أن يواقعها۔(فتاوی قاضي خان،کتاب النکاح،باب في بیان المحرّمات،ج:1،ص:317)


فتویٰ نمبر : 6804/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں