بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عاریت پر دی گئی زیورات واپس نہ کرنے کا حکم


سوال

ہماری برادری میں یہ رواج ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریتاً سونے کے زیورات پہنائے جاتے ہیں،تاہم لڑکی ان زیورات کی مالک نہیں بنائی جاتی ہے۔چنانچہ میں نےاپنی والدہ کا سونا عاریتاً اپنی بیوی کو دیا، لیکن میری بیوی نے اب چونکہ عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے لہذا اب وہ یہ سونا مجھے واپس نہیں دے رہی ہے اور کہتی ہے کہ یہ سونا اب میرا حق ہےکیونکہ یہ مجھے شوہر نے ملکیتاً دیا تھا۔جب کہ شوہر کا کہنا یہ ہے کہ یہ سونا نہ تو میں نے بیوی کو گفٹ کیا ہے اور نہ ہی یہ سونا اسے حق مہر میں دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کا سونے کے زیورات واپس  نہ کرنا شرعاً جا ئز ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ عاریت پر لی ہوئی چیز لینے والے کے پاس امانت  ہوتی ہے، اور مالک کے مطالبہ کرنے پرامانت کو اس کی طرف لوٹانا شرعاً ضروری ہے۔نیز دعویٰ کرنے والے کے پاس اگر اپنے دعویٰ پر گواہ موجود ہوں تو اس کے قول کا اعتبار کیاجائے گا،تاہم اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی اور قسم اٹھانے کے بعداس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی شوہر نے بیوی کو سونا عاریت کے طور پر دیاتھا   تو اس پر بیوی کی ملکیت ثابت نہیں،بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ یہ سونا واپس کردے۔ نیز اگر واقعتاً برادری کے  رواج کے مطابق  لڑکے کے گھر والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریتاً سونے کے زیورات دئیے جاتے ہوں ،لیکن بیوی اس رواج کے خلاف کا دعویٰ کررہی ہو کہ  مجھے یہ سونا ملکیتاً دیا گیا ہےتو چونکہ عورت خلافِ ظاہرملکیت کا دعویٰ کررہی ہے،اس لیے وہ مدعیہ ہےلہذا اگراس   کے پاس  دو معتبرگواہ موجود ہوں اور اس کے دعویٰ کے مطابق گواہی دیں  تو  اس کا قول معتبر ہوگا۔ لیکن اگر بیوی کے پاس گواہ موجود نہ ہو ں تو شوہر قسم اٹھائےگا کہ میں نے  یہ سونا رواج کےمطابق عاریتاًدیا تھانہ کہ مہر یا ملکیت کے طور پر۔ اگر وہ  قسم کھالے تو اس کا قول معتبر شمار کیا جائے گا،لہذا بیوی سونا واپس کرے گی۔

 

البینۃ علی المدعي واليمين على من أنكر.(سنن الترمذي، أبواب الأحكام،باب ما جاء أن البينة على المدعي،ج:3، ص:618)

وقيل ‌المدعي ‌من ‌يلتمس ‌غير الظاهر والمدعى عليه من يتمسك بالظاهر، وقال محمد في الأصل المدعى عليه هو المنكر، وهذا صحيح. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الدعوى، ج:7، ص:193)

هي (تمليك المنافع مجانا) أفاد بالتمليك لزوم الايجاب والقبول ولو فعلا.وحكمها: كونها أمانة. (الدر المختار، كتاب العارية،ص:556)


فتویٰ نمبر : 3441/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں