بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو شرط پر معلق کرنے کی صورت میں نیت کا اعتبار


سوال

ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اگر تو فلاں کے گھر گئی تو تجھے طلاق ہے پھر اس کی بیوی تین چار سال بعد اس کے گھر چلی جاتی ہےتو کیا اس سے طلاق ہوجائے گی یا  نہیں؟ شوہر کا کہنا ہے کہ میری مراد چند دنوں کے لیے روکنا تھا۔ تو کیا اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کی صورت میں شرط کے واقع ہوجانے کے ساتھ طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ "اگر تو فلاں کے گھر گئی تو تجھے طلاق ہے" طلاق معلق کی ایک صورت ہے، لہذا بیوی کےاس گھر میں جانے سےایک طلاق رجعی واقع ہوگی ، چاہے وہ جلد جائے یا کئی سالوں بعد الفاظ میں دنوں کی تحدید نہ ہونے کی وجہ سے محض خیال میں چند دن مراد لینا معتبر نہیں۔

 

وإذا ‌أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:488،دار الفكر ،بيروت)

والحاصل: ‌أن ‌الحلف بطلاق ونحوه تعتبر فيه نية الحالف ظالما أو مظلوما إذا لم ينو خلاف الظاهر كما مر عن الخانية، فلا تطلق زوجته لا قضاء ولا ديانة، بل يأثم لو ظالما إثم الغموس، ولو نوى خلاف الظاهر، فكذلك لكن تعتبر نية ديانة فقط، فلا يصدقه القاضي بل يحكم عليه بوقوع الطلاق. (رد المحتار على الدر المختار، ج: 3، ص: 785، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 6841/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں