بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو سینکڑوں بار طلاق دینا


سوال

ایک شخص ہے جس نے اپنی بیوی کو سینکڑوں بار طلاق دی ہے اب وہ اپنے آپ کو وہابی متعارف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تین مہینوںمیں جتنی بار بھی طلاق دی جائے ایک طلاق ہوگی؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو تینوں  طلاقیں  واقع ہوجائیں گی  اور تین طلاقوں کے وقوع کے بعدعورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی  شوہر نے بیوی کو تین  سے زیادہ طلاقیں  دی ہوں تو اب دونوں کا اکٹھا رہنا اور میاں بیوی جیسی زندگی گزارنا حرام ہے۔ اس صورت میں  چاروں ائمہ فقہ کے ہاں تین طلاقیں  واقع ہوجاتی ہیں اس لئے ذاتی مفاد کی خاطر فقہی مسلک  کو چھوڑ کر دوسری جانب جانا ناجائز  ہونے کے ساتھ  بے سود بھی ہے ۔

 

(قوله والبدعي ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى...وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق، ج:4، ص:434)

 


فتویٰ نمبر : 6790/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں