بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

غیر متعین پلاٹ کی فائل خریدنا اور اسے آگے منافع پر بیچنا


سوال

ایک شخص کے پاس 10مربع زمین ہے،اس نے اس کو پلاٹنگ کے ذریعے بیچنے کا ارادہ کیا،اور5مرلہ کے کئی پلاٹ اپنے ذہن میں سوچ کرگن لئے کہ اتنے پلاٹ بنیں گے ،اور فائلیں بنا بنا کر بیچنا شروع کردیا۔ لینے والے کے سامنے 10مربع زمین ہے،اس کو نہیں پتا کہ میں کس پلاٹ کے پیسے دے رہا ہوں، اسی طرح وہ فائل نفع کے ساتھ ہاتھ در ہاتھ بکتی رہتی ہے،ہر خریدنے والا نفع کی خاطر خرید کر آگے فروخت کر دیتا ہے،جب کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ پلاٹ کدھر ہے؟ مذکورہ طریقہ کار کے مطابق فائلوں کی خریدو فروخت شرعا کیسا ہے؟

جواب

بیع کے صحیح ہونے کےلیے یہ ضروری ہے کہ مبیع معلوم ہو،مقدور التسلیم ہو اور مبیع میں ایسی جہالت نہ ہوجو تنازع کا سبب بن سکے،اور اگر مبیع میں ایسی  جہالت ہو جو تنازع کا سبب بن سکےتو وہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر یہ معلوم ہو کہ کل زمین  10 مربع ہے، لیکن اس میں پلاٹوں کا کوئی نقشہ نہ بنا ہو، چنانچہ پلاٹ خریدنے والے کو یہ معلوم نہ ہوکہ میرا پلاٹ کس جگہ پر ہے تو یہ ایسی جہالت ہے جو تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا اس طرح کے فائلوں کی خرید وفروخت جائز نہیں۔

 

‌ووجه ‌كون ‌الموضع ‌مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع. (رد المحتار على الدر المختار، ج:4، ص:545، دار الفكر، بيروت)

ومنها ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح. (الفتاوى الهندية، ج:3، ص:3، المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)


فتویٰ نمبر : 3440/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں