بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
نمازمیں وسوسوں کا آنا
سوال
دوران نماز بندہ کو وسوسے آتے ہیں اور اس وجہ سے نمازكی رکعات میں بھی غلطی ہوتی ہے توبندہ کو اس سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا اس سے گناہ گا رہو گا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ نماز میں غیر اختیاری طور پر وسوسوں کے آنے سے نماز متاثر نہیں ہوتی ،اور نہ ہی ان وسوسوں کے آ نے کی وجہ سےگناہ گار ہوتا ہے ،البتہ نماز کی طرف اگر پورا دھیان رکھا جائے اور قراءت و تسبیحات پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے معنی پر بھی سوچا جائے اور نماز کے علاوہ اوقات میں کثرت سے ذکر کا اہتمام کیا جائے تو ایسی صورت میں ان وسوسوں سے بچا جاسکتا ہے ۔نیز اگر وسوسوں کی وجہ سے نماز کی رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے توایسی صورت میں غالب گمان پر عمل کیا جائے گا ،لیکن اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہوتو پھر کم رکعات کو شمار کرے گا ،مثلا تین یا چار رکعات میں شک ہوجائے تو تین رکعات شمار کرکے ایک رکعت مز ید پڑھے گا ۔
حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك؛ أنه بلغه ، أن رجلا سأل القاسم بن محمد فقال: إني أهم في صلاتي، فيكثر ذلك علي، فقال القاسم بن محمد: امض في صلاتك، فإنه لن يذهب عنك، حتى تنصرف وأنت تقول: ما أتممت صلاتي.( موطأ الإمام مالك،ج:1،ص:190،رقم الحديث:491)
عن أبي العلاء أن عثمان بن أبي العاص أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذاك شيطان يقال له خنزب، فإذا أحسسته فتعوذ بالله منه، واتفل على يسارك ثلاثا. قال: ففعلت ذلك فأذهبه الله عني.( صحيح مسلم،ج:4،ص:1728،رقم الحديث:2203)
وإن كثر شكه عمل بغالب ظنه إن كان له ظن للحرج وإلا أخذ بالاقل لتيقنه.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار،ص:101،دار الكتب العلمية)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں