بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

کسی سے قرض لے کر اپنی تنخواہ اس کو حوالہ کرنا


سوال

ایک مسجد کا پیش امام کاماہانہ 15000 روپے وظیفہ مقرر ہے امام صاحب کویہ تنخواہ بروقت نہیں ملتی ہے اس لیے امام صاحب نے اپنی ایک سرمایہ دار مقتدی سے بات کی کہ وہ اپنی طرف سے مہینہ کے اختتام پر اسے 15000 روپے دیا کرے اور مقتدیوں سے جب پیسے جمع ہوجائیں تو وہ پیسے یہ مقتدی لے لے توکیا  اس قسم کا معاملہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی سے قرض لینا شرعاً جائز ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب کو  اگروقت پر تنخواہ نہیں ملتی اور کوئی مقتدی قرض دینے پر راضی ہو تو اس سے  بطور قرض رقم  لے لے اور مقتدیوں سے جب پیسے جمع ہوجائیں تو خود وصول کرکے قرض ادا کرے یا پھرتنخواہ  دینے والے سے کہا جائے کہ وہ اس قرض دینے والے کو تنخواہ کی رقم دے دے،یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔

 

فيصح استقراض الدراهم والدنانير، وكذا كل ما يكال أو يوزن أو يعد متقارباً". (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:5، ص:161(

الحوالة قال: "وهي جائزة بالديون" قال عليه الصلاة والسلام: "من أحيل على مليء ‌فليتبع" ولأنه التزم ما يقدر على تسليمه فتصح كالكفالة.(الهداية،كتاب الحوالة،ج:3،ص:9)


فتویٰ نمبر : 3420/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں