بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کو ہبہ کیا ہوا مال واپس لینا


سوال

ایک آدمی حیات آباد میں اپنے ذاتی مکان میں رہائش پذیر ہے اس نے اپنے ایک بیٹے کی شادی اس کی خواہش پر مردان کے ایک گھرانہ میں کی۔ نکاح کے وقت اس کے والد نے اس کو آٹھ یا نوتولہ سونا ہبہ کردیا ،لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ تمہارے باقی بہن بھائی بھی ہيں  اس کے جواب میں اس نے خود اقرار کیا کہ یہ سونا میرے چھوٹے بھائی  کا ہوگااور اس سونے کاذکر نکاح نامہ میں کسی صورت میں موجود نہیں ہے،اب والد صاحب اپنے اس بیٹے سے ہبہ کیے ہوئے زیورات کا مطالبہ کرسکتا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہبہ کرنے والے نےجس  شخص کو ہبہ دیا ہواگر وہ اس کا ذی رحم محرم رشتہ دار ہوتو اس سے واپس لینے کاحق نہیں رکھتا ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں باپ  نے بیٹے کو  شادی  کے وقت جو سونا ہبہ کیا ہے اور بیٹے نے اس پر قبضہ کیا ہے تو باپ  اپنے  بیٹے سے وہ سوناشرعا واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔

 

"وإن وهب هبة ‌لذي ‌رحم ‌محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة ‌لذي ‌رحم ‌محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل "(الهداية،كتاب الهبة،باب الرجوع في الهبة،ج:3 ،

ص:292)

من وهب لأصوله وفروعه أو لأخيه أو لأخته أو لأولادهما أولعمه أو لعمته أو لخاله أو لخالته شيئا فليس له الرجوع.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:866،ص:476)

 

 


فتویٰ نمبر : 3419/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں