بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

بیٹی کے نام پر گھر کا انتقال کرنا


سوال

ایک شخص کی تین بیٹیاں او دو بیٹے تھے دوران حیات اس نے اپنا مکان ایک بیٹی کے نام انتقال  کر دیا (لکھ دیا ) لیکن تا حیات اس بیٹی کو اس مکان کا قبضہ نہیں دیا  اور وہ بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔  اس آدمی کے وفات کے بعد اس مکان میں  باقی اولاد کا حصہ ہے یا نہیں ؟

جواب

جب کوئی شخص اپنی زندگی میں ہوش وحواس کے ہوتے ہوئے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مملوکہ جائیداد کسی کو بلا عوض دےدے تو یہ شرعا ہبہ کہلاتا ہے ۔ ہبہ کے تام ہونے کی شرط یہ ہے کہ موہوب لہ موہوبہ چیز کو قبض کر لے ۔ چنانچہ اگر موہوب لہ کا موہوبہ چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے ہبہ کرنے والا فوت ہو جائے تو موہوبہ چیز موہوب لہ کی ملک شمار نہ ہو گی ، بلکہ میراث میں شامل ہو کر تمام ورثا اس میں شریک  ہوں گے ۔ البتہ عملا قبضہ نہ ہو تو محض کاغذی کاروائی سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی ۔ سرکاری کاغذات میں انتقال کروانا محض قانونی کاروائی ہے ، مستقل قبضہ نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی باپ نے اپنی زندگی میں مکان بیٹی کے نام پرانتقال کر دیا ہولیکن قبضہ نہیں دیا تو باپ کی وفات کے بعد اس زمین میں تمام ورثا شریک ہوں گے ۔

 

(‌وركنها): ‌هو (‌الايجاب والقبول)..... (‌وتتم) ‌الهبة (بالقبض) الكامل. ( ردالمحتار على الدر المختار ، كتاب الهبة ، ج:5 ، ص:688 )


فتویٰ نمبر : 3417/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں