بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رخصتی کے وقت دلہن کے اوپر قرآن لے جانا


سوال

ہماری برادری میں ایک  رواج ہے کہ رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن پکڑ کر اس کو گاڑی تک لے جایا جاتا ہے،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن پکڑ کر گاڑی تک لے جانا عموماً اس نیت سے ہوتا ہے کہ قرآن کے سایہ میں جاکر دلہن کو خوشیاں اور برکتیں نصیب ہوں گی ،شرعا اس  کوئی حیثیت نہیں ، اس میں قرآن پاک کی بے ادبی کا بھی اندیشہ ہے، اور اپنی طرف سے دین میں اضافے کے مترادف ہے ،اس لیے  یہ بدعت کے زمرے میں شمار ہو گا، لہذا اس سے احتراز کرناچاہیے۔

 

"عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»".(صحيح البخارى،كتاب الصلح،ج:3،ص:184،الرقم:2697)

"(ومبتدع)أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة،…(‌قوله ‌وهي ‌اعتقاد ‌إلخ) عزاه هذا التعريف في هامش الخزائن إلى الحافظ ابن حجر في شرح النخبة،…وحينئذ فيساوي تعريف الشمني لها بأنها ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول اللهﷺمن علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان، وجعل دينا قويما وصراطا مستقيمااهـ فافهم".(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الصلوة،باب الامامة،ج:1،ص:560)


فتویٰ نمبر : 5621/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں