بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بیٹیوں کا خرچہ


سوال

ایک شخص نے  اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اس  کی دو بیٹیاں ہیں  اب وہ کہتا ہے کہ ان کا خرچہ میرے ذمہ   واجب نہیں ہے ،جب کہ ایک بیٹی کی عمر  11 سال اور دوسری  کی عمر 14سال  ہے شرعی  لحاظ سے رہنمائی فرمائیں کہ ان کا خرچہ  کس پر واجب ہے ماں پر یا باپ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے والد پر بیٹوں کا نفقہ ان کے بالغ ہونے تک واجب ہے جب کہ بیٹیوں کا نفقہ اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ نکاح نہ کرلیں، یا ان کی ملکیت میں   مال نہ آجائے۔

صورتِ مسئولہ میں بیٹیوں کا خرچہ والد کے ذمے واجب ہے، جب تک کہ وہ نکاح نہ کرلیں یا ان کی ملکیت میں  مال نہ آجائے۔

 

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد...ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال...ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز.(الفتاوى الهندية ،كتاب الطلاق ، الباب السابع عشر في النفقات ،ج:1،ص: 560)

 


فتویٰ نمبر : 6793/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں