بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 10/10/2026

دارالافتاء

 

طواف كے دوران بيت الله کی طرف سینہ یا پاؤں کر کے طواف کرنا


سوال

یہ بات تو مسلم ہے کہ دوران طواف کعبے کی طرف سینہ کرنا ممنوع ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ طواف کے درمیانی چکروں میں جب دور سے بالاشارہ حجر اسود کا استلام کرے تو کیا اس وقت صرف ہاتھ حجر اسود کی طرف کرے گا یا استلام الحجر بالاشارہ کے وقت سینہ بھی کعبے کی طرف کر سکتے ہیں کہ عادةً دور سے استلام بالاشارہ کے وقت تھوڑابہت سینہ کعبے کی طرف ہو ہی جاتا ہے اور بعض مرتبہ ازدہام کے سبب اسی کیفیت پر طواف میں دو ایک قدم چلنا بھی پایا جاتا ہے ۔ تو کیا دوران طواف استلام حجر بالاشارہ کے وقت اس قدر ہلکا انحراف الی الکعبہ تھوڑی بہت مدت یعنی ایک دو قدم کے بقدر صحت طواف سے مانع ہوگا یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے  کہ   طواف کرنے والے کے لیے دوران طواف اپنی نظر سامنے رکھنی  چاہیے ،خانہ کعبہ کی طرف چہرہ کر کے دیکھنا خلاف ادب ہے ،جبکہ حالت   طواف  میں بیت اللہ کی طرف سینہ یا پشت کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر حجر اسود یا رکن یمانی کا استلام کرتے وقت بیت اللہ کی طرف سینہ کرلیا جائے تو اس  میں کوئی  حرج نہیں ،تاہم اس میں  یہ ضروری ہے  کہ استلام کرتے وقت دونوں قدم اپنی جگہ پر  ہوں اور استلام سے فارغ ہونے کے بعد اسی جگہ سے بقیہ چکر کو پورا کیا جائے ،تاکہ طواف کا کچھ حصہ بھی بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کی حالت میں طے نہ ہو ،کیونکہ طواف کا جو حصہ(اگرچہ ایک دو قدم  ہی کیوں نہ ہوں) بیت اللہ کی طرف سینہ کر کے چلا جائے،اتنے حصےکا طواف نہ ہوگا ،بلکہ اس کا اعادہ کرنا ہوگا  ۔  صورت مسئولہ کے مطابق   اگر کسی  آدمی نے  بیت اللہ کی طرف سینہ یا پشت کر کے طواف کا کچھ حصہ ادا کیا  ،تواس حصے کے بقدر طواف کا اعادہ کرنا واجب ہے جتنا  حصہ اس نے بیت اللہ کی طرف سینہ کر کے اداکیا ہے چاہے جو بھی طواف ہو،چنانچہ اگر طواف کے دوران ہی اس کے لیے پیچھے آکر اس جگہ سے صحیح طرح سے ادا کرنا ممکن ہو تو اسی وقت کر لے اور اگر اس وقت رش وغیرہ کی وجہ سے ممکن نہ ہوتو آخر میں پورے چکر کا اعادہ کرے۔

 

وينبغي ‌أن ‌يبدأ ‌بالطواف من جانب الحجر الذي يلي الركن اليماني فيكون مارا على جميع الحجر بجميع بدنه فيخرج من خلاف من يشترط المرور كذلك عليه. وشرحه أن يقف مستقبلا على جانب الحجر بحيث يصير جميع الحجر عن يمينه ثم يمشي كذلك مستقبلا حتى يجاوز الحجر فإذا جاوزه انفتل وجعل يساره إلى البيت.(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الباب فى كيفية أداء الحج،ج:1،ص:225)

(وأخذ) الطائف (‌عن ‌يمينه ‌مما ‌يلي ‌الباب) فتصير الكعبة عن يساره لأن الطائف كالمؤتم بها والواحد يقف عن يمين الإمام، ولو عكس أعاد مادام بمكة فلو رجع فعليه دم وكذا لو ابتدأ من غير الحجر كما مر... لو استقبل البيت بوجهه أو استدبره وطاف معترضا كما في شرح اللباب وغيره.(قوله فلو رجع) أي إلى بلده قبل إعادته.(قوله وكذا لو ابتدأ من غير الحجر) أي يعيده وإلا فعليه دم.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحج،فصل فى الإحرام وصفة المفرد بالحج،ج:2،ص:494)

ومن ‌ترك ‌من ‌طواف الزيارة ثلاثة أشواط فما دونها فعليه شاة... ومن ترك طواف الصدر أو أربعة أشواط منه فعليه شاة " لأنه ترك لواجب الأكثر منه وما دام بمكة يؤمر بالإعادة إقامة للواجب في وقته. ومن ترك ثلاثة أشواط من طواف الصدر فعليه الصدقة.(الهداية،كتاب الحج،ج:1،ص:162)


فتویٰ نمبر : 9849/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں