بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
طلاق مغلظہ کے بعد جماع کی صورت میں عدت کا حکم
سوال
ایک شخص نے بیوی کو تین طلاقیں پچھلے رمضان (مارچ ،اپریل )میں دیں اور اس بات کو چھپائے رکھااور اس کے ساتھ جماع بھی کرتا رہا جب کہ ان کو اس بات کا علم تھا کہ ہمارا ایک ساتھ رہنا وغیرہ حرام ہے اور اب عورت کا حمل بھی ٹھہر چکا ہے جو کہ اب آٹھ اکتوبر تک ڈیڑھ سے دو ماہ کا ہو چکا ہے تو اس صورت میں عدت کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اگر شوہر بیوی کو تین طلاقیں دے اور اس کا اقرار بھی کرے تو اگر عدت میں شوہر اس سے جماع کرے جب کہ اسے حرمت کا علم ہویا میاں بیوی دونوں کو حرمت کا علم ہو تو بیوی نئے سرے سے عدت نہیں گزارے گی۔اور شرعاً ان کا یہ جماع زنا شمار ہوگا۔
لہذا صورت ِمسؤلہ میں اگر تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی نے عدت کے دوران صحبت کو حرام جانتے ہوئے جماع کیا ہو تو شرعاً اس سے عدت از سرِ نو لازم نہ ہوگا ۔بلکہ طلاق کے وقت سے تین حیض گزرنے پر عدت ختم شمارہو گی۔
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا۔وفي البزازية:طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان۔
(رد المحتار،كتاب الطلاق،باب العدة، مطلب في وطء المعتدة بشبهة،ج:5،ص:20)
فإن كانا عالمين بالحرمة مقرين بوقوع الحرمة الغليظة ولكن يطؤها فحاضت ثلاث حيض ثم أرادت أن تتزوج بزوج آخر قال: يجوز نكاحها لأنهما إذا كانا مقرين بالحرمة كان الوطء زنا والزنا لا يوجب العدة ولا يمنع من أن تتزوج۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:475)
وأما المطلقة ثلاثا إذا جامعها زوجها في العدة مع علمه أنها حرام عليه ومع إقراره بالحرمة لا تستأنف العدة ۔.( الفتاوى الهندية،ج:1،ص:532)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں