بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام کے سجدے کے بعد سجدہ کرنا


سوال

میں نےامام کے پیچھے نماز پڑھتے وقت پہلا سجدہ امام کے سجدے کے بعد اس طرح ادا کیا کہ امام کے جلسے کے دوران پہلا سجدہ کیا، اس کے بعد جلسہ میں امام کے ساتھ شریک ہوکر دوسرا سجدہ امام کے ساتھ ادا کیا۔ کیا ایسا کرنے سے میری نماز درست ہوئی یا نہیں؟

جواب

نماز میں امام کی متابعت تین قسم کی ہے: ایک یہ کہ مقتدی امام کے ساتھ تمام ارکان میں پوری طرح ایک ساتھ برابر رہے، دوسری یہ کہ کسی رکن کی ابتدا میں امام تھوڑا آگے  چلا جائے اور مقتدی تھوڑا پیچھے ہو، تاہم باقی رکن میں دونوں شریک ہوں،تیسری یہ کہ امام کسی رکن سے فارغ ہو اور مقتدی امام کی ادائیگی کے بعد وہ رکن ادا کرے۔ ان تینوں صورتوں میں مقتدی کی نماز درست ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ سائل نے امام کے سجدے کے بعد سجدہ ادا کیا ہے ، جو کہ متابعت کی تیسری قسم ہے۔ لہذا اس کی نماز درست ادا ہوئی ہے۔

 

والحاصل أن المتابعة في ذاتها ثلاثة أنواع: مقارنة لفعل الإمام مثل أن يقارن إحرامه لإحرام إمامه وركوعه لركوعه... ومعاقبة لابتداء فعل إمامه مع المشاركة في باقيه. ومتراخية عنه، فمطلق المتابعة الشامل لهذه الأنواع الثلاثة يكون فرضا في الفرض، وواجبا في الواجب، وسنة في السنة عند عدم المعارض أو عدم لزوم المخالفة كما قدمناه. (رد المحتار على الدر المختار، ج:1، ص:471، دار الفكر، بيروت)

وإذا كبر مع الإمام ‌ثم ‌نام ‌حتى صلى الإمام ركعة ثم انتبه فإنه يصلي الركعة الأولى وإن كان الإمام يصلي الركعة الثانية. (الفتاوى الهندية، ج:1، ص:92، المطبعة الكبرى الأميرية، مصر)


فتویٰ نمبر : 9826/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں