بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بیوہ اور دو بیٹوں کے درمیان میراث کی تقسیم


سوال

خان شاہ فوت ہوا اور اس کے ورثا میں سے ایک بیوہ (اص وا جان)اور دو بیٹے(صاحب شاہ ،محبت شاہ) زندہ موجود ہیں،تو ان کے درمیان میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

میــــــــ(خان شاہ)ــــ(16)ـــــــــــــت

  بیوہ                بیٹا                بیٹا

 اصوا جان       صاحب شاہ     محبت شاہ

2                     7                 7

بشرط صدق ثبوت اگر مرحوم(خان شاہ) کی وفات کے بعد مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی  وارث زندہ موجود نہ تھا،تو بعد از ادائے حقوق  متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ سولہ(16) حصوں میں تقسیم ہوکر بیوہ کو  2/16 حصے اور ہر ایک بیٹے کو 7/16حصےملیں گے۔

 

قال الله تعالی:﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾.(النساء:11)

وقال﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ﴾.(النساء:12)


فتویٰ نمبر : 3510/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں