بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا تین طلاقوں کا اقرار کرنا


سوال

اگر ايک آدمی کے گھریلو مسائل ہوں جن کی وجہ سے اس نے بیوی کو فون پر یہ کہا کہ "تالہ طلاق درکوم"اور شوہر کہتا ہو کہ میں نے  یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہیں جب کہ بیوی کہتی ہو کہ آپ نے مجھے دو مرتبہ فون پر یہ الفاظ کہے ہیں  اورمیں  نے سنا بھی کہ"تہ پہ ما طلاقہ یئ"اور پھر مجھ سے میری امی نے فون لے لیا، شاید شوہر نے تیسری مرتبہ بھی کہا ہوتو اب اس صورت کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صریح  الفاظ طلاق سے  بہر حال طلاق  واقع ہوتی ہے،چاہے بیوی نے الفاظ طلاق سنے ہوں  یا نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر خاوند یہ اقرار کرتا ہو  کہ اس نے اپنی بیوی کو فون پر یہ الفاظ"تالہ طلاق درکوم" تین  مرتبہ کہے ہیں ،تو تین طلاقیں واقع ہوچکی  ہیں  ،  بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ  کے ساتھ حرام ہوگئی ہے۔اگر بیوی نے تیسری مرتبہ نہ سنا ہو تب بھی یہی حکم ہوگاکیونکہ بیوی کا طلاق کو سننا ضروری نہیں۔

 

(وأما شرطه) ‌على ‌الخصوص ‌فشيئان (أحدهما) قيام القيد في المرأة نكاح أو عدة (والثاني) قيام حل محل النكاح حتى لو حرمت بالمصاهرة بعد الدخول بها حتى وجبت العدة فطلقها في العدة لم يقع لزوال الحل وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق وإن كان لا يزيل الحل والقيد في الحال لأنه يزيلهما في المآل حتى انضم إليه ثنتان كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرائطه،ج:1، ص:348)

" ‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ". (الهداية،كتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257)


فتویٰ نمبر : 6783/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں