بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ادھار خرید کر نقد کم قیمت پر فروخت کرنا


سوال

ایک دوست نے 20 ہزار ریال پر قسطوں میں گاڑی خریدی ہے  اب آگے اس کو نقد 13ہزار ریال پر  بیچتا ہے  تو کیا شرعا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

کوئی چیز ادھار خرید کر فروخت کنندہ کے علاوہ  کسی دوسرے شخص پر  نقد کم قیمت پر فروخت کرنا  شرعاً جائز ہے ۔

صورت مسئولہ  کے مطابق 20 ہزار ریال پر قسطوں میں گاڑی  خریدنے والا اگر فروخت کنندہ کے علاوہ  کسی تیسرے شخص پر نقد 13 ہزار ریال پر وہ  گاڑی  فروخت کرےتو یہ  جائز ہے ۔

 

من ‌اشترى ‌شيئا بألف درهم (حالة أو نسيئة فقبضه ثم باعه من البائع بخمسمائة قبل نقد الثمن) فالبيع الثانى  فاسد... إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق.(العناية شرح الهداية،كتاب البيوع،باب بيع الفاسد،ج:6،ص:433)


فتویٰ نمبر : 3411/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں