بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تصویر والے تھیلے میں کپڑوں کی خرید وفروخت


سوال

جب ہم کپڑے خریدتے ہیں توسوٹ پہنے خواتین کی تصویریں کپڑوں کے تھیلے پر پہلے سے آویزاں ہوتی ہیں۔کیا اس قسم کے کپڑوں کے تھیلے کو جس پر خواتین کی تصویرپہلے سے ہوتی ہے،خریدنا اور فروخت کرنا ٹھیک ہےکیونکہ خواتین کی تصاویرپہلے سے آویزاں ہوتی ہیں؟

جواب

مختلف چیزوں پر موجود تصاویر مصنوعات کی تشہیر وغیرہ کے لئے ہوتی ہے۔اصلا ان تصویروں کو بیچنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مصنوعات کوبیچنا اور خریدنا مقصود ہوتا ہے،لہذا ایسی چیزوں کو خریدنا یا بیچنا تصویر کو بیچنا یا خریدنا نہیں کہلائے گا،اس لئے ان چیزوں کی اسی حالت میں خرید وفروخت کرنا جائز ہےالبتہ مصنوعات بنانے اور بیچنے والوں  کے لئے تشہیر کی غرض سے خواتین کی تصاویر استعمال کرنا ناجائز ہے۔

 

سمعت عبد الله قال:سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:(‌إن ‌أشد ‌الناس ‌عذابا ‌عند ‌الله ‌يوم ‌القيامة المصورون).(صحيح البخاري،باب عذاب المصورين يوم القيامة،رقم الحديث:5606،ج:2،ص:487)

(أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه) أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره لأنها لا تعبد (الدر لمختار مع رد المحتار،باب الاسخلاف،ج:1،ص:648)

ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها(السير الكبير،باب مايحمل عليه الفيء،ص:1051)

 

 


فتویٰ نمبر : 5632/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں