بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
مسمیٰ احمداللہ انتقال کا ہوچکا ہے، اس کے ورثا میں ایک بہن(وزیرہ)اورتین چچازاد بھائی(ماجان،حسین اور شہزادہ) زندہ تھے، پھر حسین کا انتقال ہوگیا اور اس کے ورثا میں ایک چچا زاد بہن (وزیرہ)اور دو چچا زاد بھائی(ماجان اور شہزادہ)تھے،پھر ماجان کا انتقال ہوا اور اس کے ورثا میں یہی ایک چچا زاد بہن(وزیرہ)اور ایک چچا زاد بھائی(شہزادہ )موجود تھا ۔اب سوال یہ ہے کہ مرحوم احمداللہ کا میراث ان کے ورثا میں شرعاً کیسے تقسیم ہوگا؟
جواب
میـــــــ(احمداللہ)ــــ(12)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بہن چچا زاد بھائی چچا زاد بھائی چچازاد بھائی
وزیرہ ماجان حسین شہزادہ
6 2
میـــــــــــــ(حسین)ـــــــــــــــــــــت
بہن چچا زاد بھائی چچازاد بھائی
وزیرہ ماجان شہزادہ
1
میــــ(ماجان)ــــــــــــت
بہن چچازاد بھائی
وزیرہ شہزادہ
3
الاحــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــیاء
وزیرہ شہزادہ
6 6
بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم(احمداللہ)کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالاترتیب سے ہوئی ہوں تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ بارہ(12)حصوں میں تقسیم ہوکر وزیرہ اور شہزادہ میں سے ہر ایک کو چھ،چھ حصے ملیں گے۔
قال اللہ تعالى: إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ. (النساء:176)
أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف:۔۔۔۔ثم جزء جده أي الأعمام ثم بنوهم وإن سفلوا. (السراجي في الميراث، باب العصبات، أحوال العصبة بنفسه، ص:36۔37)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں