بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ہسپتال میں دوسری جماعت پڑھنے کا حکم


سوال

ایک بہت بڑا ہسپتال جس میں دوہزار ملازمین بیک وقت کام کرتے ہیں ،اور اس طرح ہزاروں کی تعداد میں مریض اور ان کےتیماردار آتے جاتے ہیں ،اور اس ہسپتال میں مستقل مسجد اور امام بھی ہے ،لیکن مجبوری اور مشغولیت کی وجہ سے یہ تمام لوگ پہلی جماعت میں شرکت نہیں کرسکتے ۔لہذا پہلی جماعت کی بعد اگر کوئی ملازم جو متبع سنت انسان ہو اور نماز کے مسائل سے واقف ہو ،تو دوسری جماعت کرسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے  کہ مسجد میں جب اہل محلہ اذان و اقامت کے ساتھ ایک دفعہ باجماعت نماز ادا کر لیں تو اسی مسجد میں اسی ہیئت کے ساتھ دوسری جماعت کرنا مکروہ تحریمی ہے ، تاہم درجہ ذیل صورتوں میں کراہت نہیں رہتی:

  1. مسجد محلہ کی نہ ہو ،  بلکہ راستہ کی ہو۔
  2. غیر اہل محلہ نے باجماعت نماز پڑھی ہو اور اہل محلہ بعد میں پڑھنا چاہیں۔
  3. دوسری جماعت کی ہیئت تبدیل کی جائے ، یعنی محراب سے ہٹ کر جماعت کرائی جائے اور اذان و اقامت نہ کی جائے ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق بہتریہ ہے کہ پہلی جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے  تاہم اگر کوئی جماعت سےرہ جائے اور دوسری جماعت کرنا چاہے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ ہیئت تبدیل کی جائے ، یعنی محراب سے ہٹ  کر اوربغیراقامت   کے  جماعت کرائی جائے۔

 

يكره ‌تكرار ‌الجماعة ‌في ‌مسجد محلة بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة . (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، كتاب الصلاة ، باب الامامة مطلب تكرار الجماعةفي المسجد ، ج:2 ،ص:288 )

وعن أبي يوسف إذا لم تكن على الهيئة الأولى لا تكره وإلا تكره وهو الصحيح، ‌وبالعدول ‌عن ‌المحراب تختلف الهيئة . (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار ، كتاب الصلاة ، باب الاذان ، ج:2 ، ص:64 )

 


فتویٰ نمبر : 9821/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں