بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح یا منگنی کے بعد شادی میں تاخیر کرنا


سوال

کسی سے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص  نکاح یا منگنی   کرے اور اس کے بعد شادی میں تاخیر کرے تو اس دوران اگر اس کی منکوحہ یا منگیتر کو حیض آئےتو اس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا ،کیایہ بات درست ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ رشتہ طے ہوجانے کے بعد بلا کسی معقول وجہ رخصتی میں تاخیر کرنا شرعا پسندیدہ  نہیں ہے،منگنی یا نکاح  کے بعد زیادہ تاخیر بسا اوقات بہت سے معاشرتی مفاسد کا پیش خیمہ بن جاتی ہے ،چنانچہ لڑکی کے ولی کو اس کے جوڑکا رشتہ مل جانے کے بعد نکاح میں تاخیر کرنے سے حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص نکاح یا منگنی کرلے تو اگر کوئی معقول وجہ نہ ہو تو رخصتی میں تا خیر نہ کرے ۔تاہم اس بات کی کوئی حقیقت نہیں  کہ اگر کسی نے نکاح یا منگنی کی اور اس کے بعد شادی میں تاخیر کردی تو اس کی منکوحہ یا منگیتر کو اس دوران جو حیض آئے گا اس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوگا  ۔

 

حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ‌ثلاث ‌لا ‌تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا.(سنن الترمذي،ج:2،ص:373،رقم الحديث:1075)


فتویٰ نمبر : 6808/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں