بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
بنات کے مدرسہ میں جمعہ پڑھنا
سوال
ہمارےہاں امریکہ میں ایک ادارہ ہے کرونا کے وقت مسجد کے علاوہ بنات کے مدرسہ میں جمعہ پڑھنا شروع کیاتھاجوکہ مسجد سے تقریبا ایک سوپچاس قدم کے فاصلے پر ہے اب مسئلہ یہ ہےکہ امام صاحب کی رائے یہ ہےکہ جمعہ اب بنات کے مدرسہ میں ختم ہونا چاہیے کیونکہ ضرورت نہیں رہی جب کہ کمیٹی والے کہتے ہیں کہ اب نمازی زیادہ ہوگئےہیں مسجد میں زیادہ سےزیادہ دو صفوں کی جگہ ہے جبکہ بنات والے مدرسہ میں جمعہ پڑھنےوالوں کی صفیں تقریبا دس ہوتی ہیں اور یہ بات واضح کردوں کہ یہاں نہ ہی توکمیٹی والوں کا آپس میں اختلاف ہے اور نہ ہی امام صاحب کے مقابلہ میں کوئی مستقل عالم جمعہ پڑھاتا ہے اکثر بنات کہ مدرسہ میں بیان انگلش میں ہوتا ہے کبھی عذر کی بناپر اردو میں بیان ہوتا ہے تو بعض انگلش کو پسند کرتے ہیں اردو نہ سمجھنے کی وجہ سے ،جب کہ مسجد میں صرف اردو میں بیان ہوتاہے تو کیا بنات کے مدرسہ میں شرعا جمعہ پڑھنا جائز ہےیانہیں؟
جواب
واضح رہےکہ نمازجمعہ کے لیے فقہائےکرام نے جوشرائط بیان کی ہیں ان شرائط میں مسجد کا ذکر نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ پڑھنا مسجد میں لازم نہیں بلکہ شہرمیں مسجدکے علاوہ کسی اور جگہ بھی جمعہ پڑھناجائز ہےتاہم مسجد میں جمعہ ادا کرنے کی فضیلت اپنی جگہ ثابت ہے ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق جب بنات کے مدرسہ میں نماز جمعہ شروع کی جاچکی ہو اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو ا ہے نیز لوگوں کو بنات کے مدرسے میں جمعہ پڑھنے میں فائدہ بھی زیادہ ہو تو اس صورت میں بنات کے مدرسہ میں جمعہ پڑھنا جائز ہے۔
عن أبي الأحوص، قال: قال عبد الله: «لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق قد علم نفاقه، أو مريض، إن كان المريض ليمشي بين رجلين حتى يأتي الصلاة»، وقال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم علمنا سنن الهدى، وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه»۔(صحيح مسلم ،ج:1 ،ص:453)
وعن عبد الله بن مسعود قال: من سره أن يلقى الله غدًا مسلمًا فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادي بهن، فإن الله شرع لنبيكم سنن الهدى وإنهن من سنن الهدى ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم ۔۔۔وفي لفظ وقال: إن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - علمنا سنن الهدى وإن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه، رواه مسلم.(النفخ الشذي شرح جامع الترمذي،ج:4،ص:171)
عن أبي هريرة، عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قال: ((صلاة الجميع تزيد على صلاته في بيته وصلاته في سوقه خمسا وعشرين درجة، فإن أحدكم إذا توضأ فأحسن وأتى المسجد لا يريدإلا الصلاة، لم يخط خطوة إلا رفعه الله بها درجة أو حط عنه بها خطيئة حتى يدخل المسجد، …والحديث: نص في أن الصلاة في المسجد تزيد على صلاة المرء في بيته وفي سوقه خمسا وعشرين درجة، وهو أعم من أن تكون صلاته في بيته وفي سوقه في جماعة أو منفردا.ويدل على ذلك: أنه ذكر سبب المضاعفة، وهو فضل مشيه إلى المسجد على طهارة،وفضل انتظاره للصلاة حتى تقام، وفضل قعوده في المسجد حتى يحدث، وهذا كله لا يوجد شيء منه في صلاته في بيته وفي سوقه.لكن المراد - والله أعلم -: صلاته في سوقه في غير مسجد، فإنه لو صلى في سوقه في مسجد لكان قد حصل له فضل المشي إلى المسجد، وانتظار الصلاة فيه، والجلوس فيه بعد الصلاة - أيضا -، وإن كان المسجد الأعظم يمتاز بكثرة الخطا إليه، وبكثرة الجماعة فيه، وذلك يتضاعف به الفضل - أيضا - عند جمهور العلماء، خلافا لمالك.(فتح الباري لابن رجب،ج:3،ص:418)
فأما الشرائط في غير المصلى لأداء الجمعة فستة المصر والوقت والخطبة والجماعة والسلطان والإذن العام ۔(المبسوط للسرخسي،ج:2،ص:23)
قوله ويشترط إلخ) قال في النهر: ولها شرائط وجوبا وأداء منها: ما هو في المصلى. ومنها ما هو في غيره والفرق أن الأداء لا يصح بانتفاء شروطه ويصح بانتفاء شروط الوجوب ونظمها بعضهم فقال:وحر صحيح بالبلوغ مذكر ... مقيم وذو عقل لشرط وجوبها،
ومصر وسلطان ووقت وخطبة ... وإذن كذا جمع لشرط أدائها۔(ردالمحتارعلى الدر المختار،ج:2،ص:137)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں