بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسکالرشپ کی رقم پرزکوۃ کا حکم


سوال

مجھے یونیورسٹی کے اخراجات کے لیے ساڑھے تین لاکھ کا اسکالرشپ ملا ہے اور اس پر دو سال گزر گئے ہیں، تو کیامجھ پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

زکوۃ کے وجوب کے لیے نصاب کا مالک ہونا، اس پر سال کا گزر جانا، اور حوائج اصلیہ سے زائد ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کو اسکالرشپ کی مد میں ملی ہوئی مذکورہ رقم مل گئی  ہواور اس پر اتنا قرض بھی نہ ہو کہ اگر اس کو ادا کیا جائے تو باقی رقم نصاب سے کم پڑجائے، تو اس پر سال گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا لازم ہے، تاہم اگر اس کے نام پراسکالرشپ کی مذکورہ رقم کی منظوری تو ہوچکی ہو، لیکن تاحال اس کے قبضے میں نہ آئی ہوتو پھر اس پر زکوۃ ادا کرنا واجب نہیں۔

 

 الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول ... " ومن كان عليه ‌دين ‌يحيط بماله فلا زكاة عليه " وقال الشافعي رحمه الله تجب لتحقق السبب... " وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا " لفراغه عن الحاجة...  وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة   لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية. (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:1، ص:95،96، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

الزكاة واجبة في الذهب والفضة، مضروبة كانت أو غير مضروبة، نوى التجارة أو، لا إذا بلغت الفضة مائتي درهم، والذهب عشرين مثقالاً. (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج:2، ص:240، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 9841/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں