بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

موقوفہ زمین میں وراثت کا حکم


سوال

شہر بلاری میں ایک جگہ 1925ء میں عید گاہ کےلیے سید عبدالسلام مرحوم(ہڈی والے) نے وقف کی تھی۔ الحمد للہ ! اور اب تک اسی جگہ پرعیدگاہ تعمیر ہے اور ہر عید کی نماز یہیں پر ادا کی جارہی ہے۔ اورعیدگاہ کمیٹی کی انتظامیہ کے پاس تمام تر انتقالات اور کاغذات بھی موجود ہیں۔اَب98سال بعد واقف کا ایک پوتا اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ کر تا ہے‘ اور وہ اپنے حصہ کی رقم طلب کرتے ہوئے وکیل کی جانب سے نوٹس بھی بھیج دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً اس موقوفہ زمین میں وراثت کا دعویٰ درست ہے؟ جب کہ واقف کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے بھی اس طرح کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ امید کہ اس مسئلہ کا جواب کتاب و سنت کی روشنی میں عنایت فرماکر جماعت و جمعیت کے لیے اطمینان کا باعث ہوں گے۔

جواب

واضح رہے كہ جب زمين كسى خاص مصرف كے ليے وقف كى جائے اورجس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو ، اس مقصد میں اس کا استعمال شروع ہوجائےتووقف تام ہوجاتاہے، چنانچہ عیدگاہ کے لیے وقف کی گئی زمین میں جب ایک مرتبہ عید کی نماز پڑھی جائےتووقف تام ہوجاتاہےاور وقف تام ہونے كے بعد موقوفہ زمين کی خرید وفروخت وغیرہ کے تصرفات کا اختیار ختم ہوجاتاہےنیزاس میں میراث  کے احکام بھی جاری نہیں ہوتے۔

  لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعی  زمین عید  گاہ  کے لیے وقف کی گئی تھی، توچونکہ   وقف تام ہوچکا ہےاس  لیے واقف کی اولاد یا پوتوں کا اس موقوفہ زمین  پر وراثت کا دعویٰ کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

 

قال ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه لأنه تجرد عن حق العباد وصارخالصالله تعالیٰ۔(الهداية، کتاب الوقف، ج:4، ص: 411)

شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب: شرط الواقف كنص الشارع، ج:6، ص:649(

قال: وإن جعل أرضا له مسجدا لعامة المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه وإن مات لم يكن ميراثا" لأنه حرزها عن ملكه وجعلها خالصة لله تعالى.(المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:11، ص: 124)

)فإذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن) (قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الوقف، ج:6، ص:531)

 


فتویٰ نمبر : 3412/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں