بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
وارث کے لیے وصیت کرنا
سوال
شادی بیاہ کی ایک رسم منگنی کے وقت لڑکے والوں کی طرف سے جہیز سونے کے زیورات اور لاکھوں کی تعداد میں جوڑے کی رقم ڈیمانڈ کی جاتی ہے اور دولہن کے والدین یا بھائیوں کو مجبوراً دولہے کی اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے زمین اور جائیداد فروخت کرنے کے علاوہ سودی قرض بھی لینا پڑتا ہے اور نکاح سے پہلے شکرانہ کی رات کا کھانا پھر صبح کا ناشتہ اور پھر نکاح کے بعد دوپہر کے کھانے میں مجبورا سینکڑوں لوگوں کی دعوت کرنی پڑتی ہے اس طرح سے ہندوانہ لوازمات کے ساتھ میری پانچ بہنوں کا نکاح ہوا ہے جس میں کسی بہن کو جوڑے کی رقم اور جہیز کے علاوہ 20 تولہ سونے کے زیورات اور کسی کو 18 تولہ سونے کے زیورات دیئے ہیں ان اخراجات کے لئے میرے والد صاحب نے اپنی کمائی کے علاوہ سودی قرض بھی لیا تھا صرف ایک بہن کا نکاح شریعت کے مطابق ہوا تھا جوڑے کی رقم اور جہیز کے بغیر صرف باراتیوں کی دعوت کی گئی تھی۔ 2006 میں میرے والد کا انتقال ہوا وفات سے پہلے والد صاحب کی زبانی وصیت یہ تھی کہ جس بہن کا نکاح شریعت کے مطابق ہوا ہے اس کو کل جائیداد میں سے دو سینٹ زمین دی جائے گی اور بقیہ تمام جائیداد ان کے دو لڑکوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کردی جائے گی چونکہ ددسری بہنوں کو ان کے نکاح کے وقت جوڑے کی رقم اور زیورات اور جہیز کا سامان دے دیا تھا اس لئے ان کو کچھ نہ دینے کہ بات کررہے تھے۔ تمام وارثین از روئے رضامندی خاموش رہے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ ہر ایک کے نکاح کے وقت زمین فروخت کرنے کے علاوہ قرضہ بھی لیا گیا تھا جس کو والد نے وفات سے پہلے ادا بھی کردیا تھا اس زبانی وصیت اور مذکورہ حالات (جوڑے کی رقم سونے کے زیورات باراتیوں کی دعوتیں جہیز سامان کے لئے فروخت جائیدادیں و سودی قرضے) کی وجہ سے ڈیڑھ ایکڑ زمین جوکہ 2006 میں والد صاحب کے انتقال کے بعد قانونی اعتبار سے والدہ کے نام ہوگئی تھی جس کو میری والدہ نے 2021 میں میرے دو بھائیوں کے درمیان برابر تقسیم کردیا اور دو سینٹ کا مکان اس بہن کے نام کردیا جس کا شریعت کے مطابق بغیر جہیز اور جوڑے کی رقم کے نکاح ہوا تھا۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ اس ڈیڑھ ایکڑ زمین میں بقیہ وارثین کو کچھ حصہ ملے گا یا صرف دوبھائیوں کے درمیان والد کی زبانی وصیت کی بناء پر تقسیم ہوگا کیونکہ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ تم بھی اس زمین میں سے اپنا حصہ مانگو اور اس پر قبضہ کرو ورنہ تمھارے والد جہنم میں جائیں گے۔ جبکہ میرے شوہر نے 2002 میں میرے نکاح کے وقت ڈیڑھ لاکھ روپے جوڑے کی رقم کے لئے میرے والد سے لئے تھے تو آیا جوڑے کی رقم واپس دے کر وراثت مانگنا ہے یا جوڑے کی رقم مانگے بغیر میں وراثت کی حقدار ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص کا اپنے ورثا کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ۔اس لیے کہ شریعت نے ہر وارث کا حصہ متعین کیا ہے جو مورث کی وفات کے بعد اس کے زندہ ورثا کو دیا جاتا ہے،البتہ اگر تمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے مرحوم کی وصیت کو پورا کرنا چاہتے ہوں تو ایسی صورت میں مورث کی وصیت نافذ ہوجائے گی،لیکن اگر ورثا کی رضامندی نہ ہوتو پھر وصیت شرعا معتبر نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مرحوم باپ نے ڈیڑھ ایکڑ زمین اپنے دو بیٹوں اور دو سینٹ کامکان اپنی ایک بیٹی کو دینے کی وصیت کی ہو اورتمام ورثا عاقل بالغ ہوں اور اپنے مرحوم باپ کی وصیت نافذ کرنے پرراضی ہوں تو ایسی صورت میں یہ وصیت نافذ ہوجائے گی، جس کی بنا پر باقی ورثا کا مذکورہ جائیداد( ڈیڑھ ایکڑزمین، دو سینٹ کا مکان)میں کوئی حصہ نہ ہوگا، تاہم اگر تمام ورثا راضی نہ ہوں یا بعض راضی ہوں اور بعض ناراض ہوں تو ایسی صورت میں جو ورثا مذکورہ وصیت نافذ کرنے پر راضی نہیں ہیں توان کے حق میں یہ وصیت نافذ نہ ہوگی اور مذکورہ جائیداد میں ان کا شرعی حصہ کے بقدر حق ہوگا۔
عن عمرو بن شعيب , عن أبيه , عن جده , أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته يوم النحر: «لا وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة»(سنن الدار قطنی،کتاب الفرائض،ج:5،ص:،172،رقم الحدیث:4154)
قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الوصايا،ج:6،ص:656)
وإذا ترك الرجل ابنين فأوصى لأحدهما بنصف ماله، فأجاز ذلك له أخوه أخذ نصف المال بالوصية، والباقي بينهما نصفان؛ لأن الوصية بما زاد على الثلث، والوصية للوارث إنما تمتنع بقوله: لحق الورثة فإن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا وصية لوارث» إلى أن يجيزه الورثة فإذا وجدت الإجازة فقد زال المانع فيأخذ الموصى له نصف المال بطريق الوصية.(المبسوط للسرخسي،كتاب العين والدين،باب الوصية بأكثر من الثلث...ج:29،ص:2)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں